سابق وزیرِاعظم اور تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان کو قید تنہائی میں تقریباً دو سال مکمل ہونے کو ہیں اور اب اس طویل اسیری پر اُن کی سابقہ اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ بھی خاموش نہ رہ سکیں۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک جذباتی پیغام میں جمائما نے نہ صرف عمران خان کی تنہائی، بلکہ اُن کے بیٹوں پر ممکنہ گرفتاری کی دھمکیوں پر شدید ردعمل دیا ہے جسے انسانی اور جمہوری حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔
جمائما نے ٹویٹر (ایکس) پر لکھا کہ میرے بچوں کو اپنے والد (عمران خان) سے فون پر بات کرنے کی بھی اجازت نہیں۔ وہ تقریباً دو سال سے جیل میں تنہا قید ہیں۔
اب پاکستان کی حکومت کہتی ہے کہ اگر میرے بچے اُن سے ملنے کی کوشش کریں گے تو انہیں بھی گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا جائے گا۔ یہ کسی جمہوریت یا فعال ریاست میں نہیں ہوتا۔ یہ سیاست نہیں بلکہ ایک ذاتی انتقام ہے۔
My children are not allowed to speak on the phone to their father @ImranKhanPTI. He has been in solitary confinement in prison for nearly 2 years.
Pakistan’s government has now said if they go there to try to see him, they too will be arrested and put behind bars.
This doesn’t… https://t.co/ccM7QFPmlV pic.twitter.com/z2v6PKgHto— Jemima Goldsmith (@Jemima_Khan) July 10, 2025
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت کے اہم مشیر رانا ثناء اللہ نے حالیہ دنوں میں ایک انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ اگر عمران خان کے بیٹے پاکستان آ کر کسی متشدد تحریک کی قیادت کریں گے تو انہیں گرفتار کیا جائے گا۔
اگر وہ پاکستان آئیں گے تو انہیں مشکلات کا سامنا ہوگا اور ممکن ہے کہ برطانیہ کی ایمبیسی انہیں بازیاب کروا کر واپس لے جائے۔
یاد رہے کہ عمران خان کو مئی 2023 کے بعد مختلف مقدمات میں گرفتار کیا گیا، جن میں توشہ خانہ ریفرنس، سائفر کیس اور 9 مئی کے واقعات شامل ہیں۔ اگرچہ ان میں سے کچھ میں ضمانت ملی، مگر ایک کے بعد ایک نئے کیسز کے تحت ان کی رہائی ممکن نہ ہو سکی۔
ان دنوں عمران خان اٹک جیل اور بعد ازاں اڈیالہ جیل میں قید تنہائی کاٹ رہے ہیں۔ ان پر بیرونی دنیا سے رابطے، حتیٰ کہ اہل خانہ سے بھی بات چیت کے مواقع نہایت محدود کر دیے گئے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








