ایس بی سی اے کے دفتر پر چھاپہ، کون کون سے 9 افسران گرفتار؟

تازہ ترین

تازہ ترین

Karachi hacker makes shocking revelations about targeting women’s phones
FILE PHOTO

کراچی میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے دفتر میں پولیس کی بھاری نفری نے وزیراعلیٰ سندھ کی انسپیکشن ٹیم کے ہمراہ اچانک کارروائی کرتے ہوئے ادارے کے مرکزی دفتر میں جاری اجلاس کے دوران نو افسران کو گرفتار کر لیا۔

ذرائع کے مطابق یہ کارروائی ایس بی سی اے کے نئے ڈائریکٹر جنرل شاہ میر خان بھٹو کی سربراہی میں ہونے والے ایک اہم اجلاس کے دوران عمل میں لائی گئی، جس کا مقصد لیاری میں حالیہ دنوں میں گرنے والی عمارت کے سانحے کی وجوہات پر غور کرنا تھا۔

جیسے ہی اجلاس کا آغاز ہوا سٹی پولیس اور سی ایم آئی ٹی کی ٹیم نے کانفرنس روم پر چھاپہ مارا اور موقع پر موجود افسران کو گرفتار کر کے ایک نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔

گرفتار ہونے والے افسران میں سابق ڈائریکٹر ساؤتھ اشفاق کھوکھر، حال ہی میں ریٹائرڈ ہونے والے آصف رضوی، سابق ڈائریکٹر عرفان نقوی، جلیس صدیقی، فہیم صدیقی، زرقم حیدر، عاصم خان اور ذوالفقار شاہ شامل ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ان افسران کا تعلق ان یونٹس سے تھا جہاں گزشتہ پانچ سالوں کے دوران غیر قانونی تعمیرات کا عروج رہا، خاص طور پر لیاری اور ضلع ساؤتھ میں۔

یہ کارروائی لیاری میں حالیہ دنوں میں گرنے والی عمارتوں کے تناظر میں کی گئی جن میں انسانی جانوں کا ضیاع ہوا اور جن کی تعمیر و منظوری انہی افسران کے دورِ تعیناتی میں ہوئی تھی۔

تحقیقات سے یہ انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ بعض عمارتوں کے پلاٹ نمبر تبدیل کر کے تعمیرات کی اجازت دی گئی جبکہ بنیادی حفاظتی معیار کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔ اسی بنا پر ایس بی سی اے کے سابق ڈی جی اسحاق کھوڑو کو پہلے ہی معطل کیا جا چکا ہے، اور ان کے خلاف محکمانہ تحقیقات جاری ہیں۔

وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن، وزیر بلدیات سعید غنی اور وزیر قانون ضیا لنجار نے سانحہ لیاری کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں یہ اعلان کیا تھا کہ واقعے کے تمام ذمہ داروں کو کٹہرے میں لایا جائے گا اور کسی کو رعایت نہیں دی جائے گی۔

Related Posts