اسرائیل میں لازمی فوجی بھرتی کیخلاف یہودی مدارس میدان میں آگئے

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو عبرانی میڈیا

اسرائیلی عدالت نے سخت گیر مذہبی یہودیوں کے لیے لازمی فوجی خدمات اور لازمی بھرتی سے استثنا کے معاملے پر ایک حکم جاری کیا ہے جس نے طویل عرصے سے قائم اس تنازع کو ہوا دے کر حکومت کو بحران سے دوچار کیا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی ہائی کورٹ نے حریدی نامی کٹر مذہبی فرقے کے تمام مذہبی تعلیمی اداروں کو دی جانے والی مالی امداد منجمد کرنے کا حکم دیا ہے، جہاں کے طالبعلم فوج میں بھرتی کے اہل ہیں مگر بھرتی سے انکار کر رہے ہیں۔

اس معاملے میں حکومت میں شامل حریدی فرقے سے تعلق رکھنے والی جماعتوں نے غصے کا اظہار کیا ہے جبکہ دوسری جانب ایک سیکولر پارٹی نے حکومت سے علیحدگی اختیار کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ اکثر اسرائیلی شہری سخت گیر یہودیوں کو دی جانے والے اس استثنٰا کے خلاف ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ جب پوری قوم حالت جنگ میں ہے اور فوجی بھرتی میں شامل ہو رہی ہے تو حریدی کیوں مستثنیٰ قرار دیے جائیں۔

تاہم یہودی مذہبی مدارس نے اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے فیصلوں سے یہودیت کو خطرہ ہے، فوجی خدمات سے استثنا پانے والے سخت گیر مذہبی یہودیوں کا کہنا ہے کہ یہ ہماری سرخ لکیر ہے۔ ہم اسرائیل چھوڑ دیں گے، لیکن توریت نہیں چھوڑ سکتے۔

ان کا کہنا ہے کہ دشمن کیخلاف جنگ جیتنے کیلئے ہتھیار اور وردی کافی نہیں، روحانی قوت ہی اس جنگ میں فیصلہ کن طاقت ہے، جو توریت کی تلاوت سے حاصل ہوگی۔

عدالتی اور نیتن یاہوں حکومت کے فیصلے کیخلاف حریدی فرقے کا تل ابیب میں دھرنا شروع ہوگیا ہے۔ واضح رہے کہ 31 مارچ کو حریدیوں کی فوجی تربیت میں شمولیت سے استثناء کی مہلت ختم ہو رہی ہے۔

Related Posts