کراچی میں جماعتِ اسلامی کے امیر منعم ظفر خان نے سندھ حکومت کے حال ہی میں متعارف کرائے گئے ای چالان سسٹم کو شہریوں کے ساتھ زیادتی اور نئی لوٹ مار پالیسی قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی ہے۔
ادارہ نورِ حق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ نظام اس وقت نافذ کیا گیا ہے جب شہر کی سڑکیں خستہ حال اور ٹریفک نظام تباہی کے دہانے پر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ شہریوں کے لیے معیاری سڑکیں تعمیر کرنے کو تیار نہیں مگر بین الاقوامی معیار کے جرمانے عائد کر رہی ہے۔
منعم ظفر خان نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کراچی کی سڑکیں کچے راستوں سے بھی بدتر ہیں، ایسے میں بھاری جرمانوں کا کیا جواز ہے؟
انہوں نے دعویٰ کیا کہ کراچی میں نافذ کیا گیا ای چالان سسٹم پنجاب کے مقابلے میں دس گنا زیادہ جرمانے عائد کرتا ہے جو عوام سے پیسے بٹورنے کا ایک کاروبار بن چکا ہے۔
امیر جماعتِ اسلامی نے کہا کہ حادثات میں کمی لانے کے بجائے حکومت سمجھتی ہے کہ صرف چالان جاری کر دینا مسئلے کا حل ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ بجلی، گیس اور پانی کے بڑھتے بلوں سے پریشان عوام پر اب بھاری ٹریفک جرمانوں کا بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کے پاس نہ بجلی ہے، نہ گیس، نہ پانی، مگر ان پر چالان کی مار ماری جا رہی ہے۔
منعم ظفر خان نے مطالبہ کیا کہ سندھ حکومت فوری طور پر کراچی کی سڑکوں اور ٹریفک نظام کو بہتر بنائے اور اس کے بعد ای چالان پالیسی پر عمل درآمد کرے۔ ان کے مطابق شہریوں کو سزا دینے کے بجائے سہولت دینا حکومت کی اصل ذمہ داری ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








