لاہور: بہاولنگر واقعے کی تحقیقات کے لیے پولیس، ملٹری اور مقامی انتظامیہ کے افسران پر مشتمل چھ رکنی جوائنٹ انکوائری ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔
محکمہ داخلہ پنجاب نے ٹیم تشکیل دے کر اسپیشل سیکریٹری داخلہ عطاء الرحمان کو کنوینر مقرر کر دیا ہے۔ جے آئی ٹی میں بہاولپور ڈویژن کے کمشنر، ڈی آئی جی پولیس اسپیشل برانچ پنجاب اور انٹر سروسز انٹیلی جنس ، ملٹری انٹیلی جنس اور انٹیلی جنس بیورو کے افسران بھی شامل ہیں۔
بہاولنگر میں فوجی لباس میں ملبوس درجنوں نقاب پوش افراد کو پولیس کو مارتے ہوئے دکھائے جانے والے مختصر ویڈیو کلپس سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد آئی ایس پی آر نے جمعہ کو کہا تھا کہ پاک فوج اور پنجاب پولیس نے مشترکہ طور پر واقعے کی تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے۔
فوج کے میڈیا ونگ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ حال ہی میں بہاولنگر میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جسے فوج اور پولیس حکام کی مشترکہ کوششوں سے فوری طور پر حل کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ مخصوص مقاصد کیلئے کچھ دھڑوں نے سوشل میڈیا پر ریاستی اداروں اور سرکاری محکموں کے درمیان تفریق پیدا کرنے کے لیے پروپیگنڈے کو ہوا دینا شروع کر دی ہے۔
ویڈیوز کا ایک سلسلہ وائرل ہوا جس میں مبینہ طور پر فوج کی وردیوں میں ملبوس افراد کو بہاولنگر میں پولیس اہلکاروں کو مارتے ہوئے دکھایا گیا، جس پر سوشل میڈیا کے مختلف طبقات کی جانب سے تنقید کی گئی۔
بعد ازاں بدھ کو پنجاب پولیس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر “جعلی پروپیگنڈے” کی تردید کرتے ہوئے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ اس معاملے کو سیاق و سباق سے ہٹ کر کیا گیا ہے۔
مشترکہ ٹیم اب بہاولنگر میں 8 اپریل کو ایک فوجی اہلکار کے گھر پر پولیس چھاپے کی تحقیقات کرے گی جس کے دوران پولیس اہلکاروں نے مبینہ طور پر اس کے اہل خانہ کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ جے آئی ٹی اسی طرح کے پرتشدد واقعات کی بھی تحقیقات کرے گی جو 9 اور 10 اپریل کو چھاپے کے نتیجے میں سامنے آئے تھے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








