اسلام آباد: وفاقی حکومت نے 18 مارچ کو پارٹی چیئرمین عمران خان کی پیشی کے دوران اسلام آباد میں جوڈیشل کمپلیکس پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ’حملے‘ کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی ہے۔
ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے اعلان کیا کہ ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (اے آئی ایف) پنجاب اسپیشل برانچ ذوالفقار حامد جے آئی ٹی کے سربراہ ہوں گے۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ‘تشکیل شدہ جے آئی ٹی مجرموں کے خلاف شفاف تحقیقات کرے گی’، انہوں نے مزید کہا کہ وہ 14 دن میں چالان عدالت میں جمع کرائے گی۔
وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ ‘دہشت گردوں ‘ نے عدالتوں پر حملہ کیا اور ریاستی رٹ کو چیلنج کیا، انہوں نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی کے سربراہ نے ‘جان بوجھ کر حملے’ کی منصوبہ بندی کی تھی۔
دہشت گردوں نے عدالتوں پر حملہ کیا، انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا، عمران نیازی نے جان بوجھ کر حملے کی تیاریاں کیں۔
مزید پڑھیں:پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کردیا
یاد رہے کہ ہفتہ کو اسلام آباد کا جوڈیشل کمپلیکس توشہ خانہ کیس میں پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی عدالت میں پیشی کے موقع پر میدان جنگ میں تبدیل ہو گیا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








