پشاور کے مقامی صحافی شہاب الرحمان کے ساتھ حال ہی میں ایک حیران کن اور تشویشناک واقعہ پیش آیا جس نے نہ صرف ان کی پریشانی بڑھائی بلکہ پولیس کی تفتیشی کارکردگی پر بھی سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔
نجی ٹی وی سے وابستہ صحافی شہاب الرحمان نے اپنا آئی فون فروخت کرنے کے لیے آن لائن اشتہار دیا جس پر ایک شخص دفتر آیا فون کا معائنہ کیا اور ادائیگی کے بدلے جعلی نوٹ تھما کر فرار ہو گیا۔ جب صحافی نے نوٹ چیک کیے تو وہ مکمل طور پر جعلی ثابت ہوئے۔
گزشتہ دنوں میں اپنا آئی فون بیچ رہا تھا کہ ایک شخص نے مجھ سے رابطہ کیا۔ وہ میرے دفتر آیا اور مجھے جعلی کرنسی دے کر چلا گیا۔ جب میں نے چیک کیے تو معلوم ہوا کہ وہ جعلی ہیں۔
پندرہ منٹ بعد میں یونیورسٹی ٹاؤن تھانے گیا، جہاں حیران کن طور پر مجھے بتایا گیا کہ یہ ایف آئی اے کا کیس ہے۔…
— Shahab Ur Rehman (@ishahabrahman) March 14, 2026
واقعے کے تقریباً 15 منٹ بعد صحافی شہاب الرحمان یونیورسٹی ٹاؤن تھانے پہنچے اور شکایت درج کرنے کی کوشش کی لیکن وہاں انہیں بتایا گیا کہ یہ معاملہ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے دائرہ اختیار میں آتا ہے لہٰذا تھانے میں فوری ایف آئی آر نہیں ہو سکتی ہے۔
صحافی نے اگلے روز دوبارہ تھانے جاکر مقدمے کے اندراج کے لیے درخواست کی تو ایف آئی آر کاٹی گئی تاہم حیران کن طور پر پولیس افسران نے مدعی مقدمہ سے ملزم کو پکڑنے کا طریقہ پوچھ لیا جس پر صحافی نے انہیں یاد لایا یہ آپ کا کام ہے۔
صحافی شہاب الرحمان نے سوشل میڈیا ہینڈل ایکس پر لکھا کہ ایک دن گزرنے کے باوجود پولیس کی جانب سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی سی سی ٹی وی فوٹیج چیک کرنے کے لیے آئی جس پر صحافی نے خود مشتبہ شخص کی دستیاب تفصیلات جیسے رابطہ نمبر اور ممکنہ مقام اکٹھی کیں اور دوبارہ تھانے جا کر پولیس کو پیش کر دی۔
صحافی نے سوشل میڈیا پر اس پورے واقعے کی تفصیل شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ اگر ایک صحافی کے ساتھ یہ رویہ ہو رہا ہے تو عام شہریوں کے ساتھ کیا حال ہوگا؟
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








