پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ ان کے خلاف سوشل میڈیا پر جاری کردار کشی اور جھوٹے الزامات کی مہم پر قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی پریونشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) 2016 کے تحت کی جا رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اسلام آباد میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا ہے اور اپنے خلاف چلائی جانے والی مہم پر تفصیلی شکایت درج کروائی۔
آج کچھ دیر پہلے میں نے اسلام آباد میں NCCIA
(نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی) کے ھیڈکوارٹر واقع سری نگر ھائی وے وزٹ کیا ھے –پیکا ایکٹ (پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ) 2016 کے تحت ان عناصر کیخلاف قانونی کارروائی شروع کی جا رھی ھے جنہوں نے
کانسٹیٹیوشن – ون پراجیکٹ…— Khawaja Saad Rafique (@KhSaad_Rafique) May 7, 2026
سعد رفیق نے واضح کیا کہ ان کے، ان کے اہل خانہ یا ان کے کسی عملے کے رکن کی جانب سے کانسٹیٹیوشن ایونیو بلڈنگ میں کسی قسم کی سرمایہ کاری یا ملکیت نہیں ہے۔ ان کے مطابق ان کے بارے میں میڈیا مینیجر یا کسی سرمایہ کاری کے دعوے مکمل طور پر بے بنیاد ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف چلائی جانے والی مہم دراصل منظم کردار کشی ہے اور انہوں نے اس سے قبل بھی 9 اپریل 2026 کو ایک متعلقہ ٹوئٹ کے جواب میں اس معاملے کی وضاحت دی تھی۔
سینئر رہنما نے سوال اٹھایا کہ ان الزامات کے پیچھے کون لوگ ہیں، اور ان میں مختلف طبقات شامل ہیں جن میں سیاسی مخالفین کے حامی، مخصوص سوشل میڈیا اکاؤنٹس چلانے والے افراد، اور وہ لوگ شامل ہیں جو ان کے مطابق مختلف سیاسی مؤقف رکھنے والوں کو نشانہ بناتے ہیں۔
اسلام آباد میں constitution -1 پراجیکٹ میں شراکت داری یا عمارت میں کچھ اپارٹمنٹس کی ملکیت مجھ سے منسوب کرنیکی سوشل میڈیا مہم کل رات سے چلائ جا رھی ھے جبکہ میں اس کی وضاحت
9 اپریل 26 کو محترم مطیع اللّٰہ جان کی ٹویٹ کے جواب میں پہلے ھی کر چکا ھوں ۔۔الزامات لگانے والے کون ھیں… https://t.co/aswgKKpa5K
— Khawaja Saad Rafique (@KhSaad_Rafique) May 3, 2026
انہوں نے یہ بھی کہا کہ کچھ لوگ ذاتی مفادات یا سیاسی اختلافات کی بنیاد پر جھوٹے الزامات پھیلا رہے ہیں جبکہ بعض ذہنی دباؤ یا غلط فہمیوں کی وجہ سے ایسا کر رہے ہیں۔
سعد رفیق نے دوٹوک انداز میں کہا کہ نہ وہ اور نہ ان کا خاندان کونسٹی ٹیوشن-1 پروجیکٹ یا کسی اپارٹمنٹ کے مالک ہیں اور نہ ہی انہوں نے کبھی اس منصوبے میں سرمایہ کاری کی ہے تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے بعض دوست اور جاننے والے اس منصوبے میں سرمایہ کاری کر چکے ہیں، جنہیں وہ ان کی سرمایہ کاری پر مبارکباد دیتے ہیں۔
انہوں نے اس منصوبے سے متعلق اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ سی ڈی اے (Capital Development Authority) کو ہونے والے نقصان کی قانونی وصولی کے لیے تمام اقدامات کرے جبکہ اصل اور مکمل ادائیگی کرنے والے اپارٹمنٹ مالکان کے حقوق بھی محفوظ رکھے جائیں۔
انہوں نے کہا کہا کہ ان ریگولیٹری اداروں کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے جنہوں نے زیرِ تعمیر عمارت کی نگرانی میں غفلت برتی۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت تمام فریقین کے لیے انصاف کے تقاضے پورے کرے گی اور ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس وضاحت کے بعد بھی جھوٹی مہم جاری رہی تو قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھا جائے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








