کراچی: سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس آغا فیصل 17 جنوری 2026 کو شروع ہونے والی گل پلازہ آتشزدگی کی جوڈیشل انکوائری کریں گے۔ واقعے کے نتیجے میں 70 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔
تفصیلات کے مطابق جوڈیشل کمیشن سانحہ گل پلازہ کی تفتیش اور آتشزدگی کے آغاز کی وجوہات معلوم کرے گا اور گل پلازہ کی تعمیرات میں بلڈنگ پلان کی خلاف ورزیوں کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
سانحہ گل پلازہ کے نتیجے میں شہر کے مشہورومعروف شاپنگ سینٹر کی 1200 سے زائد دکانیں جل کر راکھ کا ڈھیر بن گئیں، تاجروں کا اربوں کا سازوسامان تباہ و برباد ہوگیا جس پر سندھ حکومت نے امداد دینے کا اعلان کیا تھا۔
جوڈیشل کمیشن کو گل پلازہ میں آگ لگنے سے قبل اور بعد کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے جس کی تحقیقات 8 ہفتوں میں مکمل ہو کر رپورٹ سامنے آنے کی توقع کی جارہی ہے۔
واضح رہے کہ ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں گزشتہ ماہ لگنے والی آگ 3 روز تک مسلسل جلتی رہی جسے بجھانے کیلئے فائر بریگیڈ حکام کے پاس خاطر خواہ انتظامات کا فقدان رہا۔
خوفناک سانحے کے نتیجے میں70 سے زائد افراد کی ہلاکت اور اربوں کے نقصان پر صدر مملکت، وزیر اعظم اور سندھ حکومت کے وزرا نے بھی افسوس کا اظہار کیا اور واقعے کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی ہدایت کی تھی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








