ڈی سی کا اختیارات سے تجاوز، زمین پر ناجائز قبضے کیخلاف سماعت، جسٹس عالیہ نیلم کے سخت ریمارکس

تازہ ترین

تازہ ترین

جسٹس عالیہ نیلم
(فوٹو: آن لائن)

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے پراپرٹی اونر شپ ایکٹ کے تحت زمینوں پر غیر قانونی قبضوں پر سخت ریمارکس دئیے ہیں۔ کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے نوٹ کیا کہ ڈی سی نے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر عدالتی حکم کے باوجود زمینوں پر قبضے دلوائے گئے تو نتائج کیلئے تیار رہنا ہوگا۔ یہ ریمارکس پراپرٹی اونرشپ ایکٹ کے تحت کی گئی کارروائیوں کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران سامنے آئے۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے مقدمے کی سماعت کی جس کے دوران وہ شہری بھی عدالت میں پیش ہوا جس نے ڈی آر سی (ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی) کے ذریعے زمین کا قبضہ حاصل کیا تھا۔عدالت نے ڈی آر سی کے ذریعے حاصل قبضہ واپس کرنے کی ہدایت کی۔ وکیل سے استفسار کیا گیا کہ آپ غلط کام کا دفاع کیسے کرسکتے ہیں؟

وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ میں تسلیم کرتا ہوں کہ ڈی سی کے ماتحت کمیٹیوں نے اختیارات سے تجاوز کیا، چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ پہلے قبضہ واپس کریں، آگے اس کے بعد بات ہوگی۔ کیوں نہ کمیٹی ممبران کے خلاف کارروائی کا آغاز کریں؟ وکیل خود تسلیم کررہا ہے کہ ڈی سی نے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔

جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ گر پتواری بروقت اپنا کام کرے تو یہ معاملہ پیدا ہی نہ ہو۔ سسٹم کو بائی پاس کرنے پر ایسا ہی ہوگا۔ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ دیپالپور میں میری 40ایکڑ اراضی پر مخالفین نے قبضہ کرلیا اور ڈی سی آر کمیٹیوں نے 27روز میں قبضہ دلوایا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ قبضے کا حکم کس نے دیا؟ یہ مس کنڈکٹ ہے۔

اس موقعے پر وکیل نے درخواست کی کہ عدالت ڈی سی کی سماعت کرے، چیف جسٹس نے کہا کہ ڈی سی یہ فیصلہ نہیں کرسکتا۔ مسئلہ یہ نہیں کہ آپ پراپرٹی کے مالک ہیں یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ڈی سی کو یہ اختیار تھا یا نہیں۔ بعد ازاں عدالت نے ڈی آر سی کمیٹی کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے معاملہ فل بینچ کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔

Related Posts