دادو میں ام رباب چانڈیو کے اہلِ خانہ کے تہرے قتل کیس میں تمام ملزمان کی بریت کے بعد سیاسی ردعمل سامنے آنا شروع ہو گیا ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے فیصلے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے نظامِ انصاف پر سوالات اٹھا دیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ اس فیصلے نے ایک بار پھر یہ تاثر مضبوط کیا ہے کہ انصاف کا نظام طاقتور اور جاگیردار طبقے کے زیرِ اثر ہے۔ ان کے بقول کمزور اور عام شہری کے لیے انصاف کا حصول اب بھی ایک مشکل مرحلہ بنا ہوا ہے۔
وڈیرہ شاہی جیت گئی، انصاف ہار گیا،کرمنل کورٹ نے ام رباب چانڈیو کے والد، دادا اور چچا کے قتل کیس میں نامزد تمام ملزمان کو بری کر دیا۔فیصلے نے پھر ثابت کردیا نظام انصاف طاقت ور جاگیر داروں کے گھر کی لونڈی ہے۔
قوم کی بیٹی ام رباب چانڈیو کی تاریخی جدوجہد کو سلام۔ پیپلزپارٹی جو قوم… pic.twitter.com/DOqnqSZTxa— Naeem ur Rehman (@NaeemRehmanEngr) March 30, 2026
حافظ نعیم الرحمان نے ام رباب چانڈیو کی طویل جدوجہد کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جس حوصلے کے ساتھ انصاف کے لیے آواز بلند کی وہ قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ام رباب سندھ کی بیٹی نہیں اور کیا صرف بااثر افراد ہی توجہ کے مستحق ہیں؟
انہوں نے دیگر سیاسی جماعتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں پر بھی زور دیا کہ وہ اس معاملے پر خاموشی اختیار کرنے کے بجائے ام رباب کے ساتھ کھڑے ہوں اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








