شہر کی واحد بجلی تقسیم کار کمپنی کے۔الیکٹرک نے وضاحت کی ہے کہ قومی توانائی ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی جانب سے حال ہی میں اعلان کردہ بجلی کے نرخوں میں کمی صارفین کے بلوں پر لاگو نہیں ہوگی۔
کمپنی کے مطابق یہ کمی ملٹی ایئر ٹیرف کے تحت طے کیے گئے نرخوں سے متعلق ہے، جس کا اطلاق صارفین کے موجودہ بلوں پر نہیں ہوتا۔
کے۔الیکٹرک کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ نیپرا کی طرف سے جاری کردہ تازہ ترین ٹیرف ریویژن مالی سال 2024 سے 2030 تک کے لیے ہے، جو صارفین کے بلوں سے متعلق نہیں۔
ترجمان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ نیپرا کا حالیہ فیصلہ صرف ریگولیٹری سطح پر نرخوں میں تبدیلی سے متعلق ہے، اس کا صارفین کے بلوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، اس لیے بجلی کے بلوں میں کوئی کمی یا تبدیلی نہیں کی گئی۔
KE Spokesperson clarifies, "the recent announcement by the regulator is not applicable to customer bills. Therefore, there is no change or reduction in what customers will be charged."
— Imran Rana, Spokesperson, K-Electric (@imranrana21) October 21, 2025
یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی جب نیپرا نے کے۔الیکٹرک کے اوسط نرخ میں 7اعشاریہ 6 روپے فی یونٹ کمی کرتے ہوئے قیمت 39اعشاریہ 97 روپے سے کم کر کے 32اعشاریہ 37 روپے فی یونٹ مقرر کی تھی۔
یہ فیصلہ پاور ڈویژن کی جانب سے دائر کردہ نظرثانی درخواست کے بعد کیا گیا، جس کے تحت بجلی خریداری قیمت اور دیگر ٹیرف عوامل میں رد و بدل کیا گیا۔
خیال رہے کہ مئی 2025 میں نیپرا نے 6اعشاریہ 15 روپے فی یونٹ اضافہ منظور کیا تھا جس سے کے۔الیکٹرک کا اوسط نرخ 39اعشاریہ 97 روپے فی یونٹ تک جا پہنچا تھا۔
تازہ فیصلے کے تحت نہ صرف یہ اضافہ ختم کیا گیا بلکہ مزید 1اعشاریہ 45 روپے فی یونٹ کمی بھی کی گئی، جس سے مجموعی طور پر 7اعشاریہ 6 روپے فی یونٹ کی کمی واقع ہوئی۔
کے۔الیکٹرک کے ترجمان نے خبردار کیا کہ نیپرا کے اس فیصلے کے کمپنی کی مالی صحت، اسٹیک ہولڈرز اور صارفین پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ترجمان کے مطابق ادارہ اس فیصلے کا تفصیلی جائزہ لے رہا ہے اور قانونی و ریگولیٹری دائرہ کار کے تحت دستیاب تمام راستوں کو استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








