جون کا گرمی سے بھرپور مہینہ شروع ہوچکا ہے جس کے دوران کے الیکٹرک انتظامیہ اہلیانِ کراچی پر لوڈ شیڈنگ بم گرانے کیلئے تیار ہو گئی اور شہرِ قائد کو بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کے اہلکاروں نے نادہندگان کے کنکشنز کاٹنے کیلئے چھری کانٹے تیز کر لیے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق شہرِ قائد میں کراچی کے عوام پہلے ہی پانی اور بجلی کی کمی سے پریشان ہیں جبکہ کے الیکٹرک مزید لوڈ شیڈنگ کیلئے نیا جواز گھڑ چکی ہے جس کے تحت کراچی کے عام علاقوں کے ساتھ ساتھ لوڈ شیڈنگ سے مستثنیٰ علاقے بھی لوڈ شیڈنگ سے محفوظ نہیں رہیں گے۔کے الیکٹرک نے ہر جگہ لوڈ شیڈنگ کا عندیہ دے دیا۔
کے الیکٹرک کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ کراچی میں گرمی میں اضافے کے باعث شہری پنکھوں اور ائیر کنڈیشنز کا بے جا استعمال کر رہے ہیں جبکہ کورونا وائرس کے باعث شہر پر نافذ لاک ڈاؤن بھی نرم کردیا گیا جس سے بجلی کی طلب بے حد بڑھ چکی ہے تاہم فرنس آئل مطلوبہ مقدار میں مہیا نہیں کیا جارہا۔
انتظامیہ کے مطابق سسٹم میں بجلی کی کمی اور پیداواری صلاحیت متاثر ہوئی ہے جس کے بعد کراچی کے مستثنیٰ علاقوں میں بھی لوڈ شیڈنگ کا فیصلہ کیا گیا۔ شہریوں کو چاہئے کہ بجلی کم سے کم استعمال کریں۔ اضافی برقی آلات بند رکھیں اور ائیر کنڈیشن کم وقت تک چلا کر بجلی کی بچت کریں۔
مطالبہ کیا گیا کہ پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) فرنس آئل کی سپلائی میں اضافہ کرے، بر وقت سپلائی سے بجلی کی پیداوار بہتر ہوگی اور کراچی کے شہری لوڈ شیڈنگ سے محفوظ رہ سکیں گے تاہم کراچی کے شہریوں کے مطابق لاک ڈاؤن کے باعث مسلسل کئی روز تک بجلی کی طلب بے حد کم رہی۔
شہریوں کے مطابق متعدد صنعتی ادارے، کاروباری مراکز اور بے شمار دکانیں آج بھی بند پڑی ہیں جبکہ اسمارٹ لاک ڈاؤن کے دوران بھی شام کے وقت زیادہ تر کام بند کردیا جاتا ہے اور شہری گھروں میں دبک کر بیٹھ جاتے ہیں۔ ایسے میں لوڈ شیڈنگ کا فیصلہ ایک ظالمانہ اقدام ہے۔