کینیڈا کے شہر سری میں واقع معروف بھارتی کامیڈین کپل شرما کے ریسٹورنٹ کپس کیفے پر ایک بار پھر فائرنگ کی گئی ہے۔ یہ چند مہینوں میں تیسرا حملہ ہے جس نے مقامی بھارتی کمیونٹی اور کپل کے مداحوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
تازہ واقعہ میں کیفے پر تین گولیاں چلائی گئیں تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں کیفے کے باہر پولیس کی گاڑیاں اور فلیشنگ لائٹس دیکھی جا سکتی ہیں جو حملے کے فوراً بعد موقع پر پہنچیں۔

بشنوئی گینگ کا دعویٰ؛
اس واقعے کی ذمہ داری مبینہ طور پر لورنس بشنؤی گینگ سے منسلک دو افراد گولڈی ڈھلوں اور کلویر سدھو عرف نیپالی نے سوشل میڈیا پر قبول کی ہے۔ ان کے دعوے کے بعد لوگوں میں خدشات مزید بڑھ گئے ہیں کہ یہ حملے منظم طریقے سے کیے جا رہے ہیں۔
کیفے پہلے بھی فائرنگ نشانہ بن چکا ہے
پہلا حملہ 10 جولائی کو ہوا تھا، جب نامعلوم افراد نے کیفے کے باہر فائرنگ کی۔
دوسرا واقعہ 7 اگست کو پیش آیا، جس میں اطلاعات کے مطابق 25 سے زائد گولیاں چلائی گئیں۔
ان واقعات کی تفتیش کے دوران پہلے لدّی گینگ پر شبہ ظاہر کیا گیا تھا جس کے ممکنہ روابط بابر خالصہ انٹرنیشنل (BKI) نامی کالعدم تنظیم سے جوڑے گئے تھے۔
کپل شرما کو سیکیورٹی دی جا سکتی ہے
رپورٹس کے مطابق کپل شرما کو ممکنہ سیکیورٹی فراہم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے پہلے بھی ان کے خلاف دھمکیاں سامنے آ چکی ہیں حتیٰ کہ پنجاب میں ان کی ایک جائیداد پر بھی حملہ کیا گیا تھا۔
مداحوں کی پریشانی
کپل شرما یا ان کے اہل خانہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا لیکن ان حملوں نے ان کے چاہنے والوں کو فکر مند کر دیا ہے۔ کینیڈا میں مقیم بھارتی کمیونٹی بھی ان واقعات سے پریشان ہے اور مطالبہ کر رہی ہے کہ جلد از جلد سیکیورٹی اقدامات کیے جائیں تاکہ یہ پرتشدد سلسلہ ختم ہو۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








