کراچی کے شہری کو 6 سال قبل چوری شدہ موٹر سائیکل کا ای چالان موصول! ایم ایم نیوز حقائق سامنے لے آیا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ اسٹاف)

کراچی کے ایک شہری کے ساتھ ایسا معاملہ پیش آیا جس نے نہ صرف سب کو حیران کر دیا بلکہ کراچی پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارگردگی کا بھانڈا بھی پھوڑ دیا۔

کراچی کے ایک شہری انکشاف کیا کہ اس کی موٹرسائیکل 6 سال قبل 21 مارچ 2019 کو ٹیپو سلطان روڈ سے چوری ہو ئی تھی جبکہ اس کا مقدمہ بھی تھانے میں درج بھی ہے لیکن چھ سال بعد اسی چوری شدہ موٹر سائیکل کے خلاف ای چالان موصول ہوا۔

چوری شدہ موٹرسائیکل کے مالک نے بتایا کہ 21 مارچ 2019 کو میرے گھر کے سامنے سے میری موٹر سائیکل جس کا نمبر کے جی آئی 1312 (KGI 1312) تھا چوری ہوئی جس کی بروقت اطلاع اور اندراج مقدمہ کے لیے درخواست متعقلہ پولیس تھانے میں جمع کروائی تھی لیکن 27 اکتوبر 2025 کو اسی موٹر سائیکل کے لیے 5 ہزار روپے کا ای چالان بھیج دیا گیا۔چالان کے مطابق بائک رائیڈر نے ہیلمنٹ نہیں پہنا تھا۔

چوری شدہ بائیک کے مالک نے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے شکوہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ چھ قبل قبل چوری شدہ موٹرسائیکل برامد نہ کرواسکے مگر مجھے اس کا چالان بھجوادیا۔ شہری نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر اس کی بائیک برآمد کروائی جائے۔

شہری نے بتایا کہ جب میں نے اپنی چوری شدہ موٹرسائیکل کے حوالے سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ میری موٹر سائیکل کلفٹن کے علاقے میں کسی جرائم پیشہ شخص کے استعمال میں تاہم حیرت انگیز طور پر بجائے میری موٹر سائیکل برآمد کروانے کے الٹا مجھ پر 5 ہزار روپے کا ای چالان بھیج دیا جوکہ سراسر ظلم ہے۔

دوسری جانب کراچی کے شہریوں نے سوال اٹھایا کہ ایک چھ سال پرانی چوری شدہ موٹر سائیکل شہر کی سڑکوں پر کھلے عام چل رہی ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ کراچی پولیس نے ای چالان کا نظام ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی روکنے کیلئے متعارف کروایا ہے۔ پولیس کے مطابق ای چالان موبائل گاڑیوں اور دیگر سرکاری گاڑیوں پر بھی بڑے پیمانے پر جاری کیے جا رہے ہیں۔ اس وقت 184 بھاری گاڑیوں جیسے بسز، کرینز اور آئل ٹینکرز بھی جرمانے کے لیے ای چالان میں شامل ہیں۔

ماہرین اور شہریوں کا کہنا ہے کہ شہر قائد میں آئے روز جرائم کی وارداتوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جبکہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

Related Posts