کراچی: میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ شہر قائد میں پیر کے روز ہونے والی تاریخی بارش نے تمام تر شہری نظام کو مفلوج کر دیا اور موجودہ نکاسی آب کا نظام اس ریکارڈ بارش کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں رہا۔
میئر کراچی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ بارش سے پیدا ہونے والی تباہی صرف کراچی تک محدود نہیں رہی بلکہ خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور پنجاب کے کئی اضلاع بھی شدید متاثر ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے یا تو عملی اقدامات کرنے ہوں گے یا پھر صرف تنقید پر اکتفا کرنا ہوگا۔
مرتضیٰ وہاب نے وضاحت کی کہ کراچی میں بارش کا پہلا سلسلہ دوپہر 12 بج کر 30 منٹ پر ختم ہوا جبکہ دوسرا سلسلہ 1 بج کر 30 منٹ پر شروع ہو کر مسلسل پانچ گھنٹے جاری رہا، جو شام 6 بجے تک ریکارڈ کیا گیا۔
اس دوران منگھوپیر میں سب سے زیادہ 235 ملی میٹر بارش ہوئی، گلشنِ حدید میں 202 ملی میٹر اور ایئرپورٹ پر 200 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
مجموعی طور پر شہر میں 12 گھنٹوں کے اندر 175 سے 235 ملی میٹر بارش ہوئی، جبکہ کراچی کا نکاسی آب نظام صرف 40 ملی میٹر بارش برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سب سے زیادہ اوور فلو شاہراہِ فیصل کے تین مقامات پر دیکھنے کو ملا۔ اس دوران وزیراعلیٰ سندھ نے رات 11 بجے متاثرہ علاقوں کا دورہ بھی کیا اور شاہراہِ فیصل، نرسری، ٹیپو سلطان اور اطراف کے علاقوں میں پانی کی نکاسی کا جائزہ لیا، جہاں پانی کلیئر کر دیا گیا تھا۔ اسی طرح شاہراہِ پاکستان، شاہراہِ شیر شاہ سوری اور پنجابی کالونی انڈر پاس بھی کھول دیے گئے تھے۔
میئر کراچی نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ اپنی حفاظت کے پیش نظر غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ تاہم بارش نے ایک بار پھر شہر کے کمزور انفراسٹرکچر اور انتظامی اداروں کی غیر مؤثر کارکردگی کو بے نقاب کر دیا ہے۔
بارش کے بعد کئی اہم سڑکیں اور انڈر پاس تاحال متاثر ہیں۔ لیاقت آباد میں نئی تعمیر شدہ سڑک بیٹھ گئی ہے جبکہ لیاقت آباد پوسٹ آفس سے سندھی ہوٹل تک بڑی دراڑیں پڑ گئیں۔ ناظم آباد کے مرکزی انڈر پاس سے بھی پانی نہیں نکالا جا سکا اور سِر سید کالج کے قریب دونوں ٹریکس تاحال ناقابلِ استعمال ہیں۔
اسی طرح نیپا چورنگی پر بارش کے باعث تالاب جیسی صورتحال پیدا ہو گئی، جہاں ٹریفک تقریباً معطل رہا۔ صفورا سے حسن اسکوائر جانے والے شہریوں کو سخت مشکلات کا سامنا رہا جبکہ قریبی بیٹھے صفائی عملے نے نکاسی کے لیے کوئی عملی اقدام نہیں کیا۔
ماہرین اور شہری حلقوں کے مطابق اس بارش نے ایک بار پھر یہ حقیقت آشکار کر دی ہے کہ کراچی کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنائے بغیر شہریوں کو ہر سال اسی طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








