کراچی کا سبز احاطہ 2 فیصد سے بھی کم، سندھ حکومت آخر کر کیا رہی ہے؟ ہوشربا رپورٹ

تازہ ترین

تازہ ترین

سبز احاطہ
(فوٹو: ایکسپریس ٹریبیون)

کراچی میں سبز احاطہ اب انتہائی محدود ہوکر دو فیصد سے بھی کم رہ گیا ہے۔ حالیہ برسوں میں سندھ حکومت اور بلدیاتی اداروں نے کونوکارپس کو مرحلہ وار ہٹانے اور اس کی جگہ مقامی اقسام کے درخت لگانے کی حکمتِ عملی اختیار کی، مگر اس عمل کے دوران ایسے پودے بھی ختم کر دیے گئے جنہیں انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر کی ریڈ لسٹ میں ناپید ہونے کے خطرے سے دوچار قرار دیا جا چکا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی بڑے شہروں میں شہری منصوبہ بندی کے ساتھ سبزہ بڑھانے پر زور دیا جاتا ہے، جبکہ یہاں سبزہ کم ہونے کا رجحان الٹ سمت میں جا رہا ہے۔ ایک وقت تھا جب کراچی کی پہچان گھنے درخت اور ٹھنڈی ہوائیں ہوا کرتی تھیں۔ سڑکوں کے کنارے سایہ دار درخت گرمی کی شدت کو کم کرتے اور شہریوں کو قدرتی سکون فراہم کرتے تھے، مگر اب یہ منظر تیزی سے بدل چکا ہے۔

حال ہی میں سامنے آنے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خاموشی سے کم ہوتے درخت اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ شہر اپنی سبز شناخت کھو رہا ہے، اور اس کے اثرات بدلتے موسم، بڑھتی حدت اور بے ترتیب بارشوں کی صورت میں رونما ہورہے ہیں جو اس شہر کی کروڑوں کی آبادی کے ساتھ ہونے والا ایک ایسا ظلم ہے جو ان کیلئے زندگی اجیرن کرسکتا ہے اور گرمی کی لہروں اور اربن فلڈنگ کے خدشات پھر سر اٹھا سکتے ہیں۔

کونوکارپس کی کٹائی کے نام پر شہر کے کئی دیگر درخت بھی متاثر ہوئے، یہاں تک کہ سخی حسن کے سرسبز قبرستان میں موجود درختوں کے ساتھ پرندوں کے مسکن بھی ختم ہو گئے۔ حکام کی جانب سے صرف مخصوص درخت ہٹانے کی بات کی گئی، مگر اس عمل کے دوران لگنم وٹائے جیسے نایاب درخت بھی کاٹ دیے گئے، جس پر ماحولیاتی حلقوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔

ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید کے مطابق کونوکارپس تقریباً دو دہائی قبل کراچی میں لگایا گیا تھا، اور 2021 کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان درختوں سے ماحول میں نمایاں بہتری نہیں آئی، جبکہ انفرااسٹرکچر کو نقصان پہنچنے کی شکایات بھی سامنے آئیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ جتنے درخت نکالے جائیں گے اتنی ہی تعداد میں نئے درخت لگائے جائیں گے تاکہ سبزہ برقرار رہے۔

ہارٹی کلچرل سوسائٹی آف پاکستان کے ترجمان رفیع الحق کا کہنا ہے کہ لگنم کے درختوں کی کٹائی افسوسناک ہے کیونکہ یہ پہلے ہی معدومی کے خطرے سے دوچار ہیں۔ ان کے مطابق ایسے درخت جو مقامی ماحول کے لیے مفید ہوں، ان کی حفاظت اور باقاعدہ نگرانی ضروری ہے تاکہ شہری درجہ حرارت میں توازن برقرار رکھا جا سکے۔

Related Posts