کراچی کے علاقے ناظم آباد کے حکیم ابنِ سینا روڈ کا افتتاح 8 جنوری 2025 کو مئیر مرتضیٰ وہاب نے کروڑوں روپے کی خطیر رقم سے کیا تھا مگر حیران کن طور پر چند ماہ میں اسے دوبارہ کھود دیا گیا۔
یہ فیصلہ خود کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (KMC) کے انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ نے کیا، جو گزشتہ چند سال سے تعمیر و مرمت کے معاملات کے ذمہ دار ہے، جن کی قیادت بھی فی الوقت مرتضیٰ وہاب ہی کر رہے ہیں ۔
کمیونٹی ذرائع کے مطابق، نیا اسفالٹ ایک نئے چالان، صرف 11 لاکھ روپے، ادا کرنے کے بعد کٹوانے کی اجازت دی گئی۔
چالان کے مقامات میں روڈ کو “کچے پورشن” قرار دے کر دوبارہ کھدائی کے عمل کو جائز ٹھہرایا گیا، یہ اقدام قانون کے آڑ میں کیا گیا مگر اخلاقی طور پر سوال اٹھائے گئے ۔
بلدیہ عظمیٰ کے میونسپل کمشنر نے اس اجازت کو حتمی شکل دی، جس کے نتیجے میں شہری حلقوں میں بے حد نکتہ چینی ہوئی۔ احتجاج کی نوبت یہاں تک پہنچی کہ ناظم آباد تھانے میں غیر قانونی روڈ کٹنگ کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کر لی گئی ہے۔
مئیر کراچی مرتضیٰ وہاب نے واضح کیا تھا کہ کوئی بھی سڑک فقط KMC کی تحویل میں کاٹی جائے، اس کے لیے پیشگی تحریری اجازت ضروری ہے ورنہ متعلقہ ادارے کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
عوام نے سال پوچھا ہے کہ یہ کب ختم ہوگا؟ سڑک بنتی ہے، پھر کھودی جاتی ہے، اور ایک یونین کونسل کے لیے اربوں روپے کا چالان؟ ایک شہری نے نشاندہی کی کہ عوامی شعور اور نمائندوں کا فرض ہے کہ وہ اس خراب رویے پر سخت سوال اٹھائیں ۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








