کراچی پولیس نے لیاری گینگ وار کے کمانڈر وصی اللہ لاکھو کی گرفتاری کیلئے ایک بار پھر بین الاقوامی سطح پر کارروائی کے لیے رابطہ کیا ہے ، وصی اللہ لاکھو اس وقت بیرونِ ملک سے بھتہ خوری کا نیٹ ورک چلا رہا ہے، پولیس نے انٹرپول کے ذریعے ریڈ نوٹس جاری کرنے کی درخواست کی ہے۔
ایس ایس پی سٹی عارف عزیز کی جانب سے ڈی آئی جی ساؤتھ کو بھیجے گئے اس چوتھے خط میں وصی اللہ لاکھو کے خلاف سنگین جرائم، بالخصوص بھتہ خوری اور دیگر مقدمات کی تفصیلات شامل کی گئی ہیں۔
خط میں بتایا گیا ہے کہ گینگ وار سرغنہ ایران اور دبئی جیسے ممالک سے غیر ملکی نمبروں کے ذریعے کراچی کے تاجروں اور شہریوں کو دھمکیاں دے کر بھاری رقوم طلب کر رہا ہے۔
پولیس کے مطابق بھتہ دینے سے انکار پر تاجر اور دکاندار سنگین نتائج کی دھمکیوں کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ مقامی سطح پر اس کے کارندے شہر میں خوف و ہراس پھیلا رہے ہیں۔ حکام نے اعتراف کیا کہ مقامی پولیس اب تک اس ملزم کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق متعدد بار درخواستوں کے باوجود ریڈ نوٹس جاری نہیں ہوا تاہم انٹرپول سے ابتدائی رابطہ قائم کر لیا گیا ہے اور وصی اللہ لاکھو کی گرفتاری کے لیے مزید اقدامات جاری ہیں۔
اس سے قبل کراچی پولیس نے لیاری گینگ وار کے اہم کارندے دانیال عرف دانی پٹھان کو علاقے کلاکوٹ سے گرفتار کیا تھا۔
ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق دانیال بھتہ خوری، دہشت گردی اور قتل کے کئی واقعات میں ملوث ہے۔ اس کا گینگ پاک کالونی، ناظم آباد، لسبیلہ، سولجر بازار اور گولیمار جیسے علاقوں میں خوف پھیلا رہا تھا۔
تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ دانیال منشیات کی اسمگلنگ میں بھی سرگرم تھا اور اس نے ریاست جدگل، کاشف دادا، ساجد مجید جیسے بدنام گروپوں کے ساتھ مل کر کام کیا۔
پولیس کے مطابق وہ اسلحہ آن لائن پشاور سے خریدتا تھا اور کم از کم چھ قتل کے مقدمات میں مطلوب ہے۔ چار سال قبل اس نے اپنے چچا کے ساتھ مل کر کراچی کے گولیمار میں ایک شہری کو قتل بھی کیا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








