کراچی کی مرکزی فروٹ منڈی کے تاجر رہنماؤں نے چیف سیکریٹری سندھ کو ایک تحریری درخواست کے ذریعے خبردار کیا ہے کہ منڈی کے باہر واقع ایک نالے پر غیر قانونی دکانیں تعمیر کی جارہی ہیں جو نہ صرف ماحولیاتی اور شہری ڈھانچے کے لیے خطرہ ہے بلکہ ٹریفک اور نکاسی آب کے نظام کو بھی شدید متاثر کرے گا۔
تاجر اتحاد کے چیئرمین محمد زاہد اعوان، صدر سید عبدالقدیم آغا اور جنرل سیکریٹری محمد اختر بلوچ کی جانب سے دستخط شدہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ منڈی کے باہر دیوار کے ساتھ ایک نالے کی تعمیر جاری ہے جس پر قبضہ کرکے غیر قانونی طور پر دکانیں بنائی جارہی ہیں۔
درخواست میں تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ چونکہ منڈی سطح زمین سے خاصی نیچے واقع ہے، اس لیے نالے کی بندش کی صورت میں نکاسی آب کا نظام مکمل طور پر درہم برہم ہوجائے گا۔
تاجروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر نالے پر دکانیں تعمیر کی گئیں تو منڈی کے سامنے واقع سروس روڈ مکمل طور پر بلاک ہو جائے گا، جس سے پہلے ہی موجود ٹریفک کے دباؤ میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگا۔ سپر ہائی وے جو کہ منڈی کے بالکل قریب ہے، اکثر ٹریفک جام کا شکار رہتا ہے اور اس قسم کی غیر قانونی سرگرمی پورے شہر کے لیے ٹریفک بحران کا سبب بن سکتی ہے۔

تاجروں نے اپنی درخواست میں سپریم کورٹ کے اس حکم کا بھی حوالہ دیا ہے، جس کے مطابق کسی نالے یا سڑک پر کسی قسم کی تعمیرات کی اجازت نہیں۔ اس کے باوجود نالے پر دکانوں کی تعمیر نہ صرف عدالتی حکم کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ شہری حقوق اور ماحولیاتی اصولوں کی بھی نفی ہے۔
تاجر برادری کی نمائندہ مارکیٹ کمیٹی کراچی نے اس مسئلے پر باقاعدہ طور پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو ایک خط ارسال کیا ہے جس میں اس غیر قانونی تعمیرات کو فی الفور روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ساتھ ہی تاجروں نے اعلان کیا ہے کہ اگر اس معاملے پر فوری ایکشن نہ لیا گیا تو وہ سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کرکے قانونی جنگ لڑیں گے۔
تاجر رہنماؤں نے حکومت سندھ، نیشنل ہائی وے اتھارٹی، اور دیگر متعلقہ اداروں سے فوری طور پر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ نہ صرف عدالتی حکم کی پاسداری کی جائے بلکہ کراچی شہر میں بڑھتے ہوئے شہری مسائل کو بھی کنٹرول کیا جا سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








