کراچی: سندھ کے صوبائی دارالحکومت کراچی میں ترقیاتی کاموں کے ٹھیکوں کی مبینہ تقسیم پر دو با اثر گروپس آمنے سامنے آگئے جس کے باعث شہر کی ساڑھے 3 ارب روپے سے زائد لاگت کی ترقیاتی اسکیمیں منسوخ کردی گئیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق چار ماہ قبل ٹینڈر جاری ہوجانے کے باوجود بڈ ایلیویشن سیپرا ویب سائٹ پر جاری نہیں کی جارہی تھیں، جس پر لوکل گورنمنٹ پروجیکٹ کے چیئرمین پری کیورنمنٹ کمیٹی نصر اللہ میمن نے اپنی جان بچاتے ہوئے اسکیموں کی منسوخی کا نوٹس جاری کردیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صوبائی اے ڈی پی کی ساڑھے تین ارب سے زائد لاگت کی 20 ترقیاتی اسکیمیں منسوخ کردی گئی ہیں۔
کراچی میں بجلی کا بڑا بریک ڈاؤن، شہر کا بڑا حصہ بجلی سے محروم
مذکورہ ترقیاتی اسکیموں کے ٹینڈرز جون2022 میں طلب کئے گئے تھے اور ٹینڈرنگ کا عمل مکمل ہوجانے کے باوجود کامیاب کنٹریکٹرز کی بڈ ایلیویشن رپورٹ جاری نہیں کی جارہی تھی۔
سینئر کنٹریکٹرز نے اس سلسلے میں وفاقی تحقیقاتی اداروں اوراعلیٰ حکام سے منسوخ کی گئیں اے ڈی پی کی مذکورہ اسکیموں کی نگرانی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ شہر کی ترقیاتی اسکیمیں جعلسازی سے ہڑپ کرنے کے منصوبے کو ناکام بنایا جاسکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








