اسلام آباد سے ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے ملک کے موجودہ چار صوبائی ڈھانچے کو ختم کرکے پاکستان کو بارہ (12) صوبوں میں تقسیم کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔
یہ اقدام پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا انتظامی منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد نسلی و لسانی بنیادوں پر قائم صوبائی سیاست کو کمزور کرنا اور وفاقی اکائیوں کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے حامی سوشل میڈیا انفلوئنسر چوہدری شاہد محمود نے اپنی پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ موجودہ صوبے پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کو توڑ کر چھوٹے صوبوں میں تقسیم کیا جائے گا جبکہ کشمیر اور گلگت بلتستان کو بھی مزید اختیارات دیے جائیں گے۔
مجوزہ منصوبے کے تحت پنجاب کو چار صوبوں وسطی، شمالی، جنوبی اور مغربی میں تقسیم کیا جائے گا۔ اسی طرح بلوچستان کو بھی چار حصوں ساحلی، وسطی، شمالی اور مشرقی میں بانٹا جائے گا۔
خیبرپختونخوا کو دو صوبوں، شمالی اور جنوبی، میں تقسیم کرنے کی تجویز ہے جبکہ سندھ کو شہری اور دیہی صوبوں میں بانٹنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ ہر نئے صوبے کے لیے ہیڈکوارٹر اور اہم اضلاع کی فہرست بھی تیار کر لی گئی ہے۔
وفاقی حکومت کے مجوزہ منصوبے کے تحت سندھ کو دو نئے صوبوں میں تقسیم کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ پہلے حصے کو سندھ شہری قرار دیا گیا ہے جس کا ہیڈکوارٹر کراچی ہوگا اور اس میں کراچی کے تمام اضلاع کے ساتھ ساتھ حیدرآباد کو بھی شامل کیا جائے گا۔
دوسرا حصہ سندھ دیہی کہلائے گا، جس کا ہیڈکوارٹر سکھر میں قائم کرنے کی تجویز ہے، جبکہ اس میں سکھر، لاڑکانہ، خیرپور، شکارپور، نواب شاہ، دادو اور میرپور خاص جیسے اضلاع شامل ہوں گے۔
پاکستان کو 12 صوبوں میں تقسیم کرنے کی تیاری، نسلی سیاست کو دھچکا…👇
پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا انتظامی ڈھانچے کا منصوبہ تیار، ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے ملک کو بارہ (12) نئے صوبوں میں تقسیم کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ اقدام نسلی و لسانی بنیادوں پر صوبائی سیاست کو…— چوہدری شاہد محمود (@CSMR786) August 18, 2025
منصوبے کے ممکنہ طریقہ کار کے تحت پہلے تین ماہ میں آئینی مسودہ اور صوبائی حدود کا تعین ہوگا، چھ ماہ کے اندر قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے دو تہائی اکثریت کے ساتھ منظوری حاصل کی جائے گی۔
اس کے بعد عبوری گورنر، چیف سیکرٹری اور آئی جی کی تعیناتی کی جائے گی جبکہ چھ سے آٹھ ماہ کے اندر نئی حلقہ بندیاں اور انتخابات کرائے جائیں گے۔ مستقل صوبائی دارالحکومت اور سیکرٹریٹ کی تعمیر دو سے تین سال میں مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
ماہرین اور مبصرین کے مطابق اس فیصلے پر عوامی ردعمل بھی متنوع ہوگا۔ شہری علاقوں میں اسے خوش آئند قرار دیا جائے گا کیونکہ اس سے ترقیاتی منصوبوں اور سہولتوں میں تیزی آئے گی جبکہ دیہی علاقوں میں محتاط رویہ سامنے آ سکتا ہے۔
سیاسی جماعتوں میں وفاقی سطح کی پارٹیاں اس اقدام کا کریڈٹ لینے کی کوشش کریں گی جبکہ قوم پرست جماعتوں کی جانب سے ممکنہ احتجاج بھی خارج از امکان نہیں۔ عالمی میڈیا اس اقدام کو پاکستان کی سب سے بڑی انتظامی اصلاحات قرار دے گا۔
اگر یہ منصوبہ کامیابی سے نافذ ہو جاتا ہے تو وطن عزیز میں سیاسی اور انتظامی بہتری کے ساتھ ساتھ ترقی کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں، اور وفاق مضبوط بنیادوں پر استوار ہو سکتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








