مظلوم کشمیریوں کیلئے اہمیت کے حامل یومِ یکجہتئ کشمیر آج منایا جارہا ہے۔ صدر مملکت، وزیراعظم اور مسلح افواج کے سربراہان نے کشمیریوں کے نام پیغام جاری کردئیے۔ آئی ایس پی آر نے خصوصی ترانہ بھی ریلیز کردیا۔
تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں یومِ یکجہتئ کشمیر قومی جوش و جذبے سے منایا جارہا ہے۔ آئی ایس پی آر نے اس اہم موقعے پر ایک نیا ولولہ انگیز ترانہ ریلیز کردیا جو کشمیری عوام سے غیر متزلزل محبت اور یکجہتی کا بھرپور اظہپار ہے۔
کراچی کی جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی میں یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر جامعہ کے احاطے میں اظہارِ یکجہتی ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ طلبہ، اساتذہ اور انتظامی عملے کی بڑی تعداد نے گیٹ نمبر 1 سے گیٹ نمبر 2 تک پرامن مارچ میں شرکت کی۔
یومِ یکجہتئ کشمیر کی اس ریلی کا مقصد کشمیری عوام کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کرنا اور خطے میں جاری طویل المدت انسانی و انسانی حقوق کے مسائل کی جانب عالمی توجہ مبذول کرانا تھا۔ ریلیز کے شرکاء نے امن، انصاف اور حقِ خود ارادیت کے حق میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔
آئی ایس پی آر کے جاری کردہ ترانے کے بول “کشمیر ہے پاکستان” اس حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ ترانے میں کشمیری عوام کی قربانیوں، عزم و استقلال اور جذبہ حب الوطنی کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا گیا ہے۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے یومِ یکجہتئ کشمیر کے موقعے پر جاری کردہ اپنے پیغام میں کہا کہ کشمیریوں کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خود ارادیت دیا جائے۔ بھارت کا مقبوضہ جموں و کشمیر پر غیر قانونی قبضہ عالمی ضمیر کیلئے سنگین چیلنج ہے۔
اس موقعے پر جاری کردہ اپنے خصوصی پیغام میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ مسئلہ جموں و کشمیر اقوامِ متحدہ کے ایجنڈے پر موجود دیرینہ حل طلب تنازعہ ہے۔ کشمیری عوام کے منصفانہ حقِ خود ارادیت کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

دوسری جانب یومِ یکجہتئ کشمیر کے موقعے پر فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر، چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف اور پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سندھو نے افواج پاکستان کی جانب سے بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم اور غیور عوام کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ افواجِ پاکستان کشمیری عوام کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد کی بھرپور حمایت جاری رکھیں گی۔ بھارت کے زیرِ قبضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں، جن میں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، بلاجواز گرفتاریاں اور علاقے کے آبادیاتی و سیاسی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی منظم کوششیں بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
یومِ یکجہتئ کشمیر کیا ہے؟
واضح رہے کہ یومِ یکجہتیٔ کشمیر ہر سال 5 فروری کو اس لیے منایا جاتا ہے تاکہ کشمیری عوام کے ساتھ پاکستان کی غیرمتزلزل حمایت اور یکجہتی کا اظہار کیا جا سکے۔ یہ دن پہلی مرتبہ 1990ء میں منایا گیا، جب پاکستان نے سرکاری طور پر فیصلہ کیا کہ کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی کو عالمی سطح پر اجاگر کیا جائے گا۔ 5 فروری کو ملک بھر میں عام تعطیل ہوتی ہے، ریلیاں، سیمینارز اور تقاریب منعقد کی جاتی ہیں، جبکہ ایک منٹ کی خاموشی اختیار کر کے شہدائے کشمیر کو خراجِ عقیدت بھی پیش کیا جاتا ہے۔
اس دن کا مقصد عالمی ضمیر کو یہ باور کرانا ہے کہ مسئلہ کشمیر ایک زندہ اور حل طلب بین الاقوامی تنازع ہے، جسے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔ یومِ یکجہتیٔ کشمیر کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت، انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف آواز بلند کرنے اور مقبوضہ وادی میں جاری مظالم کی طرف عالمی برادری کی توجہ مبذول کرانے کا اہم ذریعہ ہے۔ پاکستان اس دن اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ وہ کشمیریوں کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت ہر سطح پر جاری رکھے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








