مقبوضہ جموں کشمیر، پاکستان اور آزاد کشمیر سمیت دنیا بھر میں مقیم مظلوم کشمیری آج بھارت کے یومِ جمہوریہ کے موقعے پر یومِ سیاہ منا رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق بھارت کے یومِ جمہوریہ کے موقعے پر ہر سال یومِ سیاہ منانے کا مقصد عالمی برادری کی توجہ کشمیری عوام کو مسلسل حقِ خود ارادیت سے محروم رکھنے والے بھارت کے مقبوضہ وادی میں مظالم کی جانب مبذول کرانا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کا کہنا ہے کہ یومِ سیاہ منانے کی اپیل آل پارٹیز حریت کانفرنس نے کی اور کہا کہ کشمیری عوام بھارتی یومِ جمہوریہ کو اپنی غلامی اور بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کی علامت سمجھتے ہوئے اسے مسترد کرتے ہیں جو انہیں کسی صورت قبول نہیں۔
یومِ سیاہ کے موقعے پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں مکمل ہڑتال ہے جبکہ آزاد کشمیر، پاکستان اور مختلف بین الاقوامی شہروں میں بھارت کے خلاف مظاہرے اور ریلیاں منعقد کی جارہی ہیں۔ مظاہرین کا ماننا ہے کہ کشمیر ایک مقبوضہ خطہ ہے جہاں یومِ جمہوریہ کی کوئی حیثیت نہیں۔
یہاں یہ قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی بھارتی فورسز نے جموں و کشمیر میں سخت سکیورٹی کے نام پر عوامی مشکلات میں اضافہ کیا۔ وادئ کشمیر اور جموں ریجن میں سرکاری تقریبات کے مقامات کی جانب جانے والی تمام سڑکوں کو خاردار تاریں لگا کر بند کردیا گیا۔
دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں عوامی نقل و حرکت پر قدغنیں عائد کرنے کیلئے ڈرونز کا سہارا لیا جارہا ہے۔ بھارتی فورسز اور پولیس مختلف شہروں کے داخلی و خارجی راستوں پر اچانک لگائے گئے ناکوں کی مدد سے گاڑیوں اور عوام کی تلاشی لے کر انہیں زدوکوب کرنے میں مصروف ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








