دنیا بھر میں کشمیری عوام، بشمول پاکستان میں مقیم کشمیری آج بھارت کا یومِ آزادی یومِ سیاہ کے طور پر منا رہے ہیں، کشمیری عوام کے مطابق یہ دن بھارت کے ظلم و جبر کے خلاف عالمی سطح پر احتجاج اور آزادی کے عزم کی تجدید کا موقع ہے۔
کشمیری میڈیا سروس کے مطابق آل پارٹیز حریت کانفرنس نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بہادر اور ثابت قدم عوام سے اپیل کی ہے کہ 15 اگست کو مکمل ہڑتال کر کے بھارت کے غیر قانونی قبضے کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرائیں۔
حریت کانفرنس کا کہنا ہے کہ جس دن بھارت اپنی آزادی کا جشن مناتا ہے، وہ کشمیری عوام کے لیے غلامی، جبری قبضے اور مظالم کی تلخ یاد ہے۔
ہم یہ دن یومِ سیاہ کے طور پر اس لیے مناتے ہیں تاکہ دنیا کو باور کرایا جا سکے کہ کشمیری عوام بھارتی تسلط کے قیدی نہیں بلکہ آزادی کے متلاشی ہیں۔
کشمیری عوام کا مؤقف ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنا پیدائشی حق مانگ رہے ہیں۔ آج بھی یومِ سیاہ مناکر وہ عالمی برادری کو یاد دہانی کرا رہے ہیں کہ کشمیری مسئلے کے حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔
حریت رہنماؤں کی اپیل کے بعد بھارتی فوج نے مقبوضہ وادی میں روایتی جبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے چھاپے مارے، درجنوں نوجوانوں کو گرفتار کیا اور انٹرنیٹ سروس معطل کر دی۔
اس کے باوجود کشمیری نوجوانوں نے مختلف علاقوں میں یومِ سیاہ کے بینرز، سیاہ جھنڈے اور پاکستانی پرچم آویزاں کیے جبکہ دیواروں پر آزادی کے حق میں اور بھارت مخالف نعرے بھی تحریر کیے گئے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








