پرنسس کیٹ مڈلٹن کے بچوں کے اسمارٹ فون پر پابندی کی وجہ جانتے ہیں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

Kate’s emotional reason for banning her kids from smartphones
ONLINE

لندن: پرنسس آف ویلز کیٹ مڈلٹن نے اپنے تینوں بچوں پرنس جارج، پرنسس شارلوٹ اور پرنس لوئیس کے لیے اسمارٹ فونز کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے۔

یہ فیصلہ صرف اسکرین ٹائم کم کرنے کے لیے نہیں بلکہ اپنی ماضی کی تلخ یادوں سے بچوں کو محفوظ رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔

ریڈار آن لائن کی رپورٹ کے مطابق پرنسس کیٹ نے اس فیصلے کی بنیاد اپنے اُس دردناک تجربے کو قرار دیا ہے جو ان کی شادی کے ابتدائی برسوں میں پیش آیا تھا۔

2012 میں فرانس میں چھٹیاں گزارنے کے دوران کیٹ اور شہزادہ ولیم کی خفیہ طور پر لی گئی نجی تصاویر ایک فرانسیسی میگزین نے شائع کر دی تھیں جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر شدید تنازع پیدا ہوا اور شاہی خاندان نے قانونی کارروائی کی تھی۔

اگرچہ متعلقہ فرانسیسی جریدے کو بعد میں بھاری جرمانہ ادا کرنا پڑا مگر اس واقعے کے جذباتی اثرات آج تک باقی ہیں۔

شاہی ذرائع کے مطابق کیٹ کو اس بات کا خوف ہے کہ اگر ایک دن ان کے بچے خاص طور پر جارج یا شارلوٹ ان تصاویر کو دیکھ لیں، تو یہ ان کے لیے نہایت تکلیف دہ لمحہ ہوگا۔

ایک اور شاہی ذریعے نے بتایا کہ اس واقعے نے کیٹ مڈلٹن پر گہرا اثر چھوڑا اور وہ پُرعزم ہیں کہ ان کے بچے نہ تو ان پرانی تصاویر کے اثر میں آئیں گے اور نہ ہی سوشل میڈیا کی منفی دنیا کا شکار ہوں گے۔

یہی وجہ ہے کہ انہوں نے شاہی محل میں سخت ڈیجیٹل اصول نافذ کیے ہیں، جو موجودہ دور کے بیشتر والدین کے لیے ایک مثال بن چکے ہیں۔

کیٹ مڈلٹن بچوں کی ذہنی صحت اور ابتدائی نشوونما پر ڈیجیٹل اثرات کے بارے میں ہمیشہ آواز اٹھاتی رہی ہیں۔

حال ہی میں انہوں نے رائل فاؤنڈیشن کے سینٹر فار ارلی چائلڈہُڈ کے لیے ایک مضمون تحریر کیا، جس میں انہوں نے اسکرین کے بے جا استعمال اور آن لائن منفی مواد کے بچوں کی نفسیات پر نقصان دہ اثرات پر روشنی ڈالی۔

پرنسس کا کہنا ہے کہ بچوں کو حقیقی دنیا کے تجربات، خاندانی وقت، اور قدرتی سرگرمیوں میں شامل رکھنا والدین کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے تاکہ وہ ایک صحت مند، پُرسکون اور اعتماد سے بھرپور بچپن گزار سکیں۔

Related Posts