سانگھڑ میں ڈان نیوز کے رپورٹر خاور حسین کی غیر فطری موت کے بعد ان کے والدین اور بھائی امریکا سے کراچی پہنچ گئے ہیں۔ خاور کے والد رحمت حسین باجوہ نے اپنے بیٹے کی خودکشی کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے اسے قتل کا معاملہ قرار دیا ہے۔
خاور حسین کے والد، والدہ اور بھائی جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی پر اترے جہاں سے وہ حیدرآباد کے لیے روانہ ہوئے۔ وہاں سے وہ خاور کی میت لے کر سانگھڑ جائیں گے۔ خاور حسین کی نمازِ جنازہ آج بعد نمازِ ظہر سانگھڑ کی عیدگاہ گراؤنڈ میں ادا کی جائے گی۔
یاد رہے کہ ہفتے کی شب خاور حسین کی گولی لگی لاش سانگھڑ کے ایک ہوٹل کے باہر پارکنگ میں موجود گاڑی سے ملی تھی۔
خاور حسین کی موت کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس کی سربراہی ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (سی ٹی ڈی) آزاد خان کر رہے ہیں۔ کمیٹی میں ڈی آئی جی غربی عرفان بلوچ اور ایس ایس پی عابد بلوچ بھی شامل ہیں۔ یہ کمیٹی اس پراسرار موت کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گی اور سات دنوں کے اندر اپنی رپورٹ سندھ کے محکمہ داخلہ کو پیش کرے گی۔
اس سے قبل ڈی آئی جی فیصل بشیر میمن نے بتایا تھا کہ خاور حسین نے حفاظتی وجوہات کی بنا پر پستول رکھا ہوا تھا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق خاور تنہا تھے اور گاڑی پارک کرنے کے بعد وہ دو بار واش روم گئے تھے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








