خیبرپختونخوا کے بزرگ کی فریاد دل چیر گئی؛ آٹا نہیں چاہیے بس میرے پیاروں کی لاشیں ملبے سے نکال دو

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

خیبرپختونخوا میں حالیہ سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے جہاں درجنوں اضلاع کو تباہی سے دوچار کر دیا وہیں متاثرہ خاندانوں کے زخم بھی مزید گہرے ہو رہے ہیں۔ صوبے کے ایک دور افتادہ علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ شہری نے حکومت سے دردناک اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے آٹا نہیں چاہیے، امدادی سامان بھی نہیں، بس میرے گھر والوں کی لاشیں ملبے سے نکال دو تاکہ میں ان کی نمازِ جنازہ ادا کر سکوں۔

یہ بزرگ پانچ دنوں سے اپنے تباہ شدہ گھر کے ملبے کے پاس بے بسی سے بیٹھے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے خاندان کے افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں مگر ابھی تک کوئی سرکاری مشینری یا ریسکیو ٹیم وہاں نہیں پہنچی۔

صوبائی حکومت سے اپیل کرتے ہوئے بزرگ شہری کی آواز تھرتھراتی رہی، انہوں نے کہا کہ رزق کا وعدہ اللہ نے کیا ہے وہی دے گا لیکن اپنے پیاروں کی میتیں دفنائے بغیر سکون نہیں ملے گا۔

ادھر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) اور دیگر متعلقہ ادارے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری رکھنے کا دعویٰ کر رہے ہیں تاہم متاثرین کی جانب سے بار بار شکایات سامنے آ رہی ہیں کہ کئی علاقوں تک نہ مشینری پہنچی ہے اور نہ ہی کوئی ذمہ دار افسر۔

یاد رہے کہ خیبرپختونخوا حالیہ دنوں میں شدید بارشوں، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلابی ریلوں کی لپیٹ میں آ چکا ہے جس کے باعث بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کا نقصان ہوا ہے۔ سینکڑوں مکانات، پل، سڑکیں اور کھیت صفحۂ ہستی سے مٹ چکے ہیں جبکہ متاثرین کھلے آسمان تلے بے یار و مددگار بیٹھے ہیں۔

متاثرہ علاقوں میں سب سے زیادہ نقصان بنیر، شانگلہ، سوات اور دیر جیسے پہاڑی اضلاع میں ہوا ہے جہاں درجنوں افراد کی ہلاکت، لاپتہ ہونے اور زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہو چکی ہیں۔

بعض علاقوں میں اب بھی کئی لاشیں ملبے تلے دبی ہوئی ہیں جنہیں نکالنے کیلئے نہ صرف مشینری کی ضرورت ہے بلکہ انسانی ہمدردی کی فوری مثال بھی قائم کرنے کی ضرورت ہے۔

Related Posts