آج کے دور کا سب سے بڑا المیہ غربت، مہنگائی، بے روزگاری یا بے راہروی بھی نہیں بلکہ ماؤں کی کوکھ میں پلنے والے بچوں کا اپنی معصومیت وقت سے پہلے کھو دینا ہے۔ معصومیت کی عمر کم ہونے لگی ہے اور بچے وقت سے پہلے ہی بڑے ہوجاتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ بچوں کو دنیا کے مختلف مسائل اور جنسی معاملات کا شعور وقت سے پہلے کیسے آجاتا ہے؟ تو اس کا سادہ سا جواب موجودہ دور میں معلومات کا وہ طوفان ہے جو کمپیوٹر، موبائل اور اب ٹی وی اسکرین کے ذریعے ہمارے گھروں پر حملہ آور ہوچکا ہے اور جس سے فرار کا کوئی راستہ نہیں۔
بھارتی لکھاری نائرہ عثمان غنی کا کہنا ہے کہ بچے ہوش سنبھالنے سے پہلے ٹی وی دیکھنے کے عادی ہوچکے ہوتے ہیں۔ نتیجتاً ان کی تربیت میں والدین سے زیادہ ٹیلی ویژن کا کردار ہوتا ہے۔ ہمارے معصوم بچے جب موسیقی کی آواز پر تھرکنے لگیں تو ہم خوش ہوتے ہیں جیسے بچے نے زندگی کا پہلا معرکہ سر کرلیا ہو۔
نائرہ عثمان غنی کا کہنا ہے کہ پھر ہم بچوں کو کارٹون کا عادی بنا دیتے ہیں جو غیر ملکی اور غیر مذہبی کرداروں پر مبنی ہوتے ہیں۔ یہ کردار اپنی روایات ہمارے بچوں کے ذہنوں میں ڈال دیتے ہیں۔ جب ہمارا معصوم سا بچہ نازیبا غیر مذہبی الفاظ بولتا ہے تو ہم اسے بھی فخر کے قابل سمجھتے ہیں۔
پھر ڈرامے، فلم اور نیٹ فلکس سیریز دیکھی جاتی ہے اور آج کل کے والدین سوشل میڈیا ٹرینڈز کی بھی پیروی کرتے نظر آتے ہیں اور ان سب معمولات میں بچہ اپنی زندگی کے نشیب و فراز اور اپنا مستقبل دیکھ رہا ہوتا ہے۔ وہ جو کچھ سیکھتا ہے اور جن باتوں پر عمل کرتا ہے، وہی اس کا مستقبل بن جاتی ہیں۔
ایسے میں اپنے ہی کارناموں سے غافل والدین جب اپنی مذہب بیزار، عجیب و غریب باتیں کرنے والی اولاد کو دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہمارے زمانے میں ایسا نہیں ہوتا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ والدین اپنے زمانے کو اپنے ساتھ زندہ رکھنے میں کامیاب نہیں ہوسکے بلکہ وہ مٹھی میں بند ریت کی طرح ان کے ہاتھوں سے نکل گیا۔
شاید یہی وجہ ہے کہ علامہ اقبال اور قائد اعظم نے جس پاکستان کا خواب دیکھا اور جسے تعمیر کیا تھا، مستقبل کے پاکستان میں اس سے بہت سی باتیں مکمل طور پر الگ بلکہ متضاد بھی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ پہلے قوم ایک وطن تلاش کر رہی تھی اور اب وطن ڈھونڈتا پھر رہا ہے کہ اس کی قوم کہاں ہے؟ آئیے ہم آپ کو بتائیں کہ قوم کہاں ہے؟
پاکستانی قوم ڈراموں، فلموں اور سیاسی تماشوں کی نذر ہوگئی جو صرف مہنگائی سے نجات چاہتی ہے تاکہ سکون سے گھر بیٹھ کر دو گھڑی کوئی بالی ووڈ کی فلم دیکھ سکے لیکن وقت گزاری کے ایسے ہی مشاغل کی وجہ سے یہ قوم اپنی شناخت سے بہت دور ہوچکی ہے اور ہم سے بہت برا حال بھارت اور مغربی ممالک میں بسنے والے مسلمانوں کا ہے۔
آج جب کوئی مسلمان لڑکا یا لڑکی کسی ہندو سے شادی کرلیتی ہے تو کتنے ہی مسلمان سر پیٹ لیتے ہیں کہ یہ کون سے ماں باپ کے بچے ہیں جو اپنے مذہب کو اہمیت ہی نہیں دیتے؟ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم من حیث القوم اپنے بچوں کی تربیت پر توجہ دیں تاکہ ان کی معصومیت وقت سے پہلے چھن جانے کا سلسلہ بند ہو اور وہ مذہب کو بھی اہمیت دیں۔ بقول اقبال:
قوم مذہب سے ہے، مذہب جو نہیں، تم بھی نہیں
جذبِ باہم جو نہیں، محفلِ انجم بھی نہیں
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








