پشاور: صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران شدید بارشوں اور اچانک آنے والے سیلاب کے باعث 43 افراد جاں بحق جبکہ 14 زخمی ہو گئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جاں بحق ہونے والوں میں دو خواتین اور آٹھ بچے شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں گیارہ مرد، دو خواتین اور ایک بچہ شامل ہیں۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں اور سیلابی ریلوں سے مجموعی طور پر 30 مکانات متاثر ہوئے جن میں 25 کو جزوی جبکہ پانچ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔
ہلاکتوں کے واقعات سوات، بونیر، باجوڑ، تورغر، مانسہرہ، شانگلہ اور بٹگرام میں رپورٹ ہوئے، جن میں باجوڑ اور بٹگرام سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع قرار دیے گئے ہیں۔
متاثرہ علاقوں میں ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں، جہاں پی ڈی ایم اے کی ٹیمیں، مقامی انتظامیہ اور رضاکار امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
زندہ بچ جانے والے افراد نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ریسکیو کاموں میں تیزی لائی جائے اور بے گھر ہونے والوں کے لیے فوری پناہ گاہیں فراہم کی جائیں۔
مانسہرہ میں آسمانی بجلی گرنے اور گہرے بادل پھٹنے سے بھی سیلابی صورتِ حال پیدا ہوئی، جس کے نتیجے میں مزید جانی و مالی نقصان ہوا۔
ادھر سوات کے علاقوں مینگورہ، ملم جبہ، حاجی بابا، خوازہ خیلہ اور مرغزار میں نشیبی علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں، جہاں سینکڑوں گھر متاثر ہوئے ۔
کئی خواتین اور بچے محفوظ مقامات نہ ملنے پر گھروں کی چھتوں پر پناہ لینے پر مجبور ہیں جبکہ بعض مقامات پر لوگ اپنی مدد آپ کے تحت انخلا کر رہے ہیں۔
پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ بارشوں کا یہ سلسلہ 21 اگست تک وقفے وقفے سے جاری رہ سکتا ہے، جس سے کمزور ڈھانچے والے علاقوں میں مزید خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








