کرم کے متحارب قبائل کے درمیان آٹھ ماہ کیلئے امن معاہدہ طے

تازہ ترین

تازہ ترین

Kurram warring tribes strike 8-month peace deal before Eid
ONLINE / FILE PHOTO

پشاور: کرم ضلع کے متحارب قبائل نے آٹھ ماہ کے لیے امن معاہدہ کر لیا ہے جو عید الفطر سے قبل ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

یہ تاریخی معاہدہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کی سربراہی میں طے پایا جس کا مقصد مستقل جنگ بندی قائم کرنا اور طویل عرصے سے بند ٹل پاراچنار مرکزی شاہراہ کو دوبارہ کھولنا ہے۔

معاہدے کے تحت دونوں فریقین نے اختلافات کو مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق کیا ہے تاکہ علاقے میں امن اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جا سکے۔ دونوں قبائل نے حکومت اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ مکمل تعاون کا بھی عہد کیا ہے۔

وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے کرم امن معاہدے کو صوبے میں استحکام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت تمام فریقین کے ساتھ مل کر پائیدار امن کو یقینی بنانے کے لیے کام جاری رکھے گی۔

مزید برآں وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت علاقے میں ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھائے گی اور عوام کے لیے سفری اور معاشی مواقع کو بہتر بنائے گی۔

گزشتہ ماہ کرم میں امدادی سامان لے جانے والے ایک قافلے پر حملہ کیا گیا تھا۔ مقامی پولیس کے مطابق نامعلوم حملہ آوروں نے 100 گاڑیوں پر مشتمل امدادی قافلے پر باگن اوچت کے علاقے میں فائرنگ کی۔

پولیس نے بروقت جوابی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ سیکورٹی فورسز کی سخت نگرانی میں قافلہ اپنی منزل کی جانب روانہ ہو گیا۔

اس سے قبل سیکورٹی فورسز نے کرم کے باگن بازار کا کنٹرول سنبھال کر علاقے میں امن بحال کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس دوران عرفانی کلی میں واتیزئی اور توری قبائل کے زیر قبضہ چار چار مورچوں کو خالی کرایا گیا۔

امن و امان کی بحالی کے لیے سیکورٹی اداروں نے علاقے میں سرچ آپریشن کا آغاز بھی کر دیا ہے تاکہ حملوں میں ملوث عناصر کو گرفتار کیا جا سکے۔

Related Posts