سندھ میں مزدور کا استحصال، 80 فیصد ادارے کم از کم تنخواہ دینے میں ناکام

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کو آگاہ کیا گیا ہے کہ صوبے کی 80 فیصد سے زائد نجی صنعتی تنصیبات سرکاری طور پر مقرر کردہ کم از کم اجرت کی ادائیگی کے حکم پر عمل نہیں کر رہیں۔

یہ انکشاف پی اے سی کے اجلاس کے دوران ہوا، جس کی صدارت نثار احمد کھوڑو نے کی۔ اجلاس میں محکمہ محنت اور سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن (سیسی) کو ہدایت دی گئی کہ وہ صوبے بھر میں تمام صنعتی اداروں کو سرکاری سطح پر مقرر کردہ کم از کم ماہانہ اجرت 37,000 روپے کی ادائیگی یقینی بنائیں۔

اجلاس میں سیسی کی 2018 اور 2019 کی آڈٹ رپورٹس کا جائزہ لیتے ہوئے چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے کہا کہ 80 فیصد نجی صنعتی اداروں میں مزدوروں کو کم از کم تنخواہ نہ دینا لیبر قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے سیسی اور محکمہ محنت کو ہدایت دی کہ مزدوروں کو کم از کم اجرت کی فراہمی سے متعلق قانون پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے۔

سیسی کے کمشنر میانداد راہوجو نے پی اے سی کو بتایا کہ سندھ میں کل 67,000 صنعتی یونٹس میں سے 24,000 یونٹس سیسی کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں، جن میں سے 6,000 یونٹس بند ہو چکے ہیں، جبکہ 18,000 فعال ہیں۔ ان رجسٹرڈ یونٹس کے 8 لاکھ سے زائد مزدور سیسی کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ متعدد صنعتی ادارے حکومت کی جانب سے مقرر کردہ کم از کم اجرت کی ادائیگی کر رہے ہیں، لیکن نجی سیکیورٹی ایجنسیز کے گارڈز کو یہ تنخواہ نہیں دی جا رہی۔

علاوہ ازیں، پی اے سی نے محکمہ محنت کے تحت 7 اسپتالوں اور 42 ڈسپنسریوں کے لیے 9 ارب روپے کی سالانہ ادویات کی خریداری کا آڈٹ کرنے کا بھی حکم دیا۔ یہ فیصلہ ان شکایات کے بعد کیا گیا جن میں اربوں روپے کی غیر معیاری ادویات اور مشینری کی خریداری میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔

Related Posts