ڈی ایچ لارنس کے مشہور ناول لیڈی چیٹرلیز لوور نے 1960 میں برطانیہ کی ادبی دنیا میں ایک زبردست ہلچل مچا دی تھی۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق کئی دہائیوں تک فحش اور غیر اخلاقی قرار دے کر اس پر پابندی عائد رہی مگر جب پبلشنگ ہاؤس پینگوئن بکس نے اسے بغیر کسی سنسر کے مکمل شکل میں شائع کرنے کا فیصلہ کیا تو یہ مقدمہ آزادی اظہار، سماجی تبدیلی اور اخلاقی اقدار کے درمیان ایک تاریخی معرکہ بن گیا۔
اس ناول میں ایک امیر طبقے کی خاتون لیڈی کانسٹینس چیٹرلی اور ایک مزدور اولیور میلرز کے درمیان جسمانی اور جذباتی تعلق کو بیان کیا گیا ہے، جو اس وقت کی اخلاقی روایات کے لیے چیلنج سمجھا گیا۔
ناول میں ایسے الفاظ اور مناظر شامل تھے جنہیں اُس دور کے نقادوں نے غیر شائستہ قرار دیا۔ مگر لارنس کا مقصد جنسی رشتوں کو ادب میں ایک فطری اور قابلِ احترام اظہار کے طور پر پیش کرنا تھا۔
1959 میں برطانوی پارلیمان نے فحش لٹریچر سے متعلق ایک نیا قانون متعارف کرایا جس کے تحت اگر کسی ادبی تخلیق میں فنی یا فکری اہمیت پائی جائے تو اسے غیر اخلاقی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
پینگوئن بکس نے اسی قانون کے تحت 1960 میں ناول کی اشاعت کا فیصلہ کیا جس کے بعد عدالت میں ایک تاریخی مقدمہ دائر کیا گیا۔
عدالت میں استغاثہ کی نمائندگی مروِن گرفِتھ جونز نے کی، جنہوں نے یہ سوال اٹھایا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بیٹے، بیٹیاں یا نوکر یہ کتاب پڑھیں؟
دفاع کی جانب سے ممتاز مصنفین اور دانشوروں نے گواہی دی کہ یہ ناول دراصل اخلاقی، ادبی اور فکری لحاظ سے ایک مثبت پیغام دیتا ہے۔ گواہ رچرڈ ہوگارٹ نے کہا کہ یہ کتاب فحش نہیں بلکہ انسانیت کی پاکیزگی پر مبنی ایک سنجیدہ تخلیق ہے۔
چھ روزہ سماعت کے بعد 2 نومبر 1960 کو جیوری نے پینگوئن بکس کو بے گناہ قرار دیا۔ فیصلے کے فوراً بعد ناول کی اشاعت عمل میں آئی اور صرف ایک دن میں دو لاکھ سے زائد کاپیاں فروخت ہو گئیں۔
تین ماہ میں اس کی فروخت تین ملین سے تجاوز کر گئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کئی خریدار کتاب کا نام لینے سے بھی شرما رہے تھے اور دکانداروں سے صرف لیڈی سی مانگتے تھے۔
یہ مقدمہ صرف ایک کتاب کا نہیں بلکہ اظہارِ رائے کی آزادی کا سنگِ میل بن گیا۔ شاعر فِلِپ لارکن نے اپنے مشہور شعر میں لکھا کہ جنسی انقلاب شروع ہوا 1963 میں،جب چیٹرلی پر سے پابندی ہٹی اور بیٹلز کا پہلا گانا ریلیز ہوا۔
یوں لیڈی چیٹرلیز لوور ادب کی تاریخ میں ایک ایسی تخلیق بن گئی جس نے نہ صرف معاشرتی حدود کو چیلنج کیا بلکہ جدید برطانیہ میں فکری آزادی کی بنیاد رکھی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








