امریکی عدالت نے 54 سالہ پاکستانی نژاد امریکی شہری کہکشاں حیدر خان کو بین الاقوامی دہشت گردی سے متعلق تحقیقات کے دوران جھوٹے بیانات دینے کے جرم میں 8 سال قید کی سزا سنائی ہے۔
تفصیلات کے مطابق یہ سزا مقامی عدالت کے جج نے 7 اکتوبر 2025 کو سنائی، جبکہ خان نے فروری 2025 میں اپنا جرم تسلیم کر لیا تھا۔کہکشاں حیدر خان پاکستان سے ہجرت کرکے ٹیکساس میں منتقل ہوئی تھیں اور علیحدگی پسند سیاسی جماعت کیلئے امریکا میں موجود حامیوں سے فنڈز بھی اکٹھے کیے۔
یہی نہیں، بلکہ کہکشاں حیدر خان نے فنڈز کو پاکستان منتقل کیا، اور وہاں تشدد آمیز کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور سہولیات فراہم کیں۔ ان کا کردار بھرتی کار اور سہولت کار کے طور پر رہا۔
عدالتی دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنوری 2023 میں خان نے کراچی، پاکستان میں ایک شخص کو بھرتی کیا تاکہ دو پنجابی مالکانہ گیس اسٹیشنز پر آگ زنی (فائر بمنگ) کے حملے کیے جائیں۔ انہوں نے اپنے ساتھی کے ساتھ حملے کی تفصیلی منصوبہ بندی کی، جس میں ہدف کا انتخاب، شعلہ زدہ مواد (جلانے والے ایکسلریٹنٹس)، حملے کی جگہ، فرار کا منصوبہ، اور دو ہتھیاروں کی خریداری شامل تھی۔ ملزمہ کہکشاں حیدر خان نے ایم کیو ایم کے امریکی حامیوں سے رقم اکٹھی کر کے اسے پاکستان وائر ٹرانسفر کے ذریعے بھیجا تاکہ حملوں کے لیے ادائیگی کی جائے۔
20 فروری 2023 کو، کہکشاں حیدر کے پاکستانی ساتھی نے کراچی کے ایک گیس اسٹیشن پر آتشزدگی کی خبر کی تصاویر بھیجیں، جس میں چھ افراد جھلس گئے تھے۔ ملزمہ نے اس خبر پر خوشی کا اظہار کیا اور ساتھی کو انعام دینے کا وعدہ کیا۔ تاہم، جب انہوں نے انٹرنیٹ پر تلاش کی تو پتہ چلا کہ یہ تصاویر اکتوبر 2022 کی ایک پرانی واقعہ کی تھیں، جس پر انہوں نے ساتھی پر دھوکہ دہی کا الزام لگایا۔
23 فروری 2023 کو، ایف بی آئی کے خصوصی ایجنٹس نے کہکشاں حیدر کے گھر پر ان سے انٹرویو لیا۔ اس دوران، انہوں نے حملوں میں اپنی شمولیت سے انکار کیا، یہ کہا کہ وہ ایسے حملوں کی خواہش نہیں رکھتیں جو نقصان یا اموات کا باعث بنیں، اور مجموعی طور پر اپنے کردار کو چھپایا۔ یہ بیانات دہشت گردی کی تحقیقات کے لیے اہم تھے، اور ملزمہ جان بوجھ کر جھوٹ بولنے کی مجرم بن گئیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








