ملک کے معروف انگریزی اخبار ڈان کے بعد لاہور پولیس کی جانب سے چیٹ جی پی ٹی کا بھونڈا استعمال محکمے کی جگ ہنسائی کا باعث بن گیا ہے۔
منگل کو لاہور پولیس کے آفیشل X اکاؤنٹ پر ایک اپ ڈیٹ شیئر کی گئی، جس میں مقامی مذہبی علماء کے ساتھ ملاقات کی تصاویر شامل تھیں، جہاں افسران اور کمیونٹی کے افراد لمبی کانفرنس ٹیبل کے گرد بیٹھے دکھائی دے رہے تھے، مگر پوسٹ کی ابتدا واضح جملے کے ساتھ ہوئی: “ChatGPT said:”
یہ پوسٹ، جو ایک گھنٹے بعد بھی عوامی طور پر دیکھی جا سکتی تھی اور جس میں کوئی ترمیم نہیں کی گئی، یہ ظاہر کرتی ہے کہ لاہور پولیس کے سوشل میڈیا افسر نے متن براہِ راست ChatGPT سے کاپی کیا اور پرامپٹ ہیڈر کو ہٹانا بھول گئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک عام پولیس میٹنگ کا اعلان ڈیجیٹل انداز میں ایسا لگا جیسے ہوم ورک کے انسٹرکشنز ہی جمع کروا دیے گئے ہوں۔
اگرچہ ملاقات اور پیغام بالکل معمول کے مطابق لگ رہے تھے، مگر AI کی یہ چھوٹی سی انٹری غیر ارادی طور پر نمایاں ہو گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ آج کل تقریبا ہر کوئی ChatGPT استعمال کر رہا ہے اور حال ہی میں ایک مشہور اخبار بھی اپنے نیوز پیج سے ChatGPT کے الفاظ ہٹانا بھول گیا تھا۔
چنانچہ ڈان اخبار کے بعد اب لاہور پولیس کے میڈیا آفس کی اس بے ضرر سی غلطی نے عوام کو بڑے پیمانے پر تفریح کا سامان فراہم کر دیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں









