پاکستانی سائنسدان مبشر رحمانی 2025 کے ٹاپ 1 فیصد ہائیلی سائٹڈ محققین میں شامل

تازہ ترین

تازہ ترین

ڈاکٹر مبشر حسین رحمانی
(فوٹو: آن لائن)

پاکستانی نژاد محقق اور کمپیوٹر سائنٹسٹ ڈاکٹر مبشر حسین رحمانی کو کلاریویٹ کی سالانہ فہرست میں 2025 کے ٹاپ 1 فیصد ہائیلی سائٹڈ ریسرچرز میں جگہ دی گئی ہے۔ یہ اعزاز دنیا بھر کے ہزاروں سائنسدانوں میں سے محض ایک ہزارویں حصے کو ملتا ہے، جو ان کی تحقیقاتی کارکردگی کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر مبشر حسین رحمانی فی الوقت آئرلینڈ کی منسٹر ٹیکنولوجیکل یونیورسٹی (ایم ٹی یو) میں لیکچرر کے عہدے پر فائز ہیں۔ انہوں  نے کمپیوٹر سائنس کے میدان میں متعدد اعلیٰ معیار کی تحقیقات شائع کیں جو ویب آف سائنس میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران سب سے زیادہ حوالہ جات والے 1 فیصد کاغذات میں شامل ہیں۔

کلاریویٹ کی اس فہرست کا اعلان حال ہی میں کیا گیا،جس میں 6،868محققین کو 60شعبوں میں تحقیق کی ترقی اور جدت کو فروغ دینے کیلئے ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے مجموعی طور پر 7،131اعزازات سے نوازا گیا۔

یہ ڈاکٹر رحمانی کا یہ اعزاز ان کی مسلسل جدوجہد اور کمپیوٹر سائنس، خاص طور پر وائرلیس نیٹ ورکس، انٹرنیٹ آف تھنگز (آئی او ٹی) اور مصنوعی ذہانت جیسے جدید موضوعات پر تحقیق کی عکاسی کرتا ہے۔ وہ پہلے بھی 2020 اور 2021 میں اسی فہرست میں شامل ہو چکے ہیں، جو ان کی مسلسل برتری اور ان کے وطن پاکستان کیلئے اعزاز کا باعث ہے۔

ڈاکٹر مبشر حسین رحمانی نے میونگس انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (ایم یو ای ٹی) پاکستان سے اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کی اور آج آئرلینڈ میں پاکستانی طلبہ اور محققین کے لیے ایک روشن مثال قائم کیے ہوئے ہیں۔

ان کی تحقیق نہ صرف سائنسی ترقی کو متاثر کرتی ہے بلکہ مستقبل کی ٹیکنالوجیز جیسے سمارٹ سٹیز اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی بنیاد بھی رکھتی ہے۔ ڈاکٹر رحمانی نے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا کہ “یہ اعزاز میری ٹیم، یونیورسٹی اور پاکستان کی سائنسی کمیونٹی کی مشترکہ کامیابی ہے، جو مجھے مزید جدت کے لیے حوصلہ دیتا ہے۔”

Related Posts