نسل پرستی پر مبنی بیان، حریف سینیٹر کو پاکستانی نژاد سینیٹر پر تبصرہ مہنگا پڑ گیا

تازہ ترین

تازہ ترین

نسل پرستی
(فوٹو: ایکسپریس نیوز)

آسٹریلیا کی خاتون سینیٹر کو نسل پرستی پر مبنی بیان دیتے ہوئے پاکستانی نژاد سینیٹر مہرین فاروقی پر تبصرہ مہنگا پڑ گیا، جج نے جرمانہ عائد کردیا ہے۔

نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق آسٹریلین جج نے پاکستانی نژاد سینیٹر مہرین فارقی کے خلاف نسل پرستانہ ریمارکس پر حریف سینیٹر پر جرمانہ عائد کیا۔ آسٹریلوی میڈیا کا کہنا ہے کہ جج انیگس اسٹیورٹ نے مہرین فاروقی کی درخواست کے حق میں فیصلہ سنایا۔

رپورٹ کے مطابق آسٹریلین میڈیا کا کہنا ہے کہ سینیٹر پاؤلین ہینسن نے جو ریمارکس دئیے، وہ انسدادِ نسل پرستی قانون کے خلاف ہیں، جج نے سینیٹر پاؤلن کو سینیٹر مہرین فاروقی کے متعلق متنازعہ پوسٹ سوشل میڈیا سے ہٹانے اور انہیں عدالتی اخراجات سمیت بھاری جرمانے کی ادائیگی کا حکم دیا۔

سفید فام انتہا پسند پارٹی کی سربراہ پاؤلن ہینسن نے سینیٹر مہرین فاروقی کے خلاف 2022 میں انتہائی متنازعہ بیان دیا اور کہا کہ وہ پاکستان واپس چلی جائیں، پاکستانی نژاد آسٹریلین سینیٹر مہرین فاروقی نے سینیٹر پاؤلن ہینسن کے خلاف فیڈرل کورٹ میں درخواست دے دی۔،

پیشے کے اعتبار سے مہرین فاروقی ایک انجینئر ہیں جو 1992 میں اپنے شوہر کے ہمراہ اسکلڈ اکنامک پروگرام کے تحت آسٹریلیا منتقل ہوئیں اور ملک سے باہر وطن کا نام روشن کر رہی ہیں۔ واضح رہے کہ رواں عشرے کے دوران آسٹریلیا سمیت مغربی ممالک میں نسل پرستی کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔

 

Related Posts