لاہوری بچے تیار ہو جائیں! پنجاب میں ڈرائیونگ پرمٹ کے نئے قانون نفاد

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

لاہور میں ایک نئی ٹریفک پالیسی کے تحت یکم مارچ 2026 سے 18 سال سے کم عمر نوجوانوں کو قانونی طور پر ڈرائیونگ پرمٹ جاری کرنے کا عمل شروع ہو جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے نوجوان غیر قانونی طور پر ڈرائیونگ کرتے رہے ہیں جس سے حادثات اور ٹریفک خلاف ورزیوں میں اضافہ ہوا ہے، اس لیے نئے قواعد بنائے گئے ہیں۔

پنجاب ٹریفک حکام نے اعلان کیا ہے کہ یکم مارچ 2026 سے 18 سال سے کم عمر نوجوان قانونی طور پر ڈرائیونگ پرمٹ حاصل کر سکیں گے۔

پنجاب ٹریفک پولیس کے اعلیٰ افسر وقاص نذیر کے مطابق 16 سے 18 سال کے نوجوان اب ڈرائیونگ پرمٹ کے لیے درخواست دے سکیں گے لیکن 16 سال سے کم عمر نوجوان اس سہولت کے اہل نہیں ہوں گے۔ درخواست کے لیے نوجوان کے پاس نادرا کا سمارٹ کارڈ یا فارم‑بی ہونا ضروری ہے، اور والدین کی جانب سے تحریری اجازت بھی لازمی ہوگی۔

نئے پرمٹ کے اجرا کے لیے امیدواروں کو روڈ ٹیسٹ اور سائن ٹیسٹ پاس کرنا ہوں گے اور اس کے لیے تقریباً 500 روپے فیس مقرر کی گئی ہے۔

ٹریفک حکام نے واضح کیا ہے کہ 16 سے 18 سال کے نوجوان صرف 125 سی سی تک کی موٹر سائیکل یا کم پاور والی الیکٹرک بائیک چلا سکیں گے۔ وہ 125 سی سی سے بڑی موٹر سائیکل، گاڑی یا کسی بھی کمرشل گاڑی کو چلانے کے مجاز نہیں ہوں گے۔ علاوہ ازیں یہ پرمٹ 18 سال کی عمر مکمل ہونے کے بعد خود بخود قانونی حیثیت کھو دے گا اور اس عمر کے بعد نوجوان کو باقاعدہ ڈرائیونگ لائسنس لینا ہوگا۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سڑکوں پر قانونی دائرے میں لانا، ٹریفک قوانین کے بارے میں آگاہی بڑھانا اور سڑکوں پر حفاظتی نظام کو مضبوط بنانا ہے۔

Related Posts