لاہور کے پوش علاقے ڈیفنس میں ایک افسوسناک واقعے میں خاتون خانسہ حسین کو جانوروں کو قتل کرنے اور اُن کی تصاویر و ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے الزام میں پولیس نے گرفتار کر لیا۔
خانسہ نے مبینہ طور پر ایک خرگوش کو قتل کر کے اس کی خون آلود تصاویر انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کیں جس کے بعد سوشل میڈیا پر شدید غم و غصہ دیکھنے میں آیا۔
ایس پی ڈیفنس شہر بانو نقوی نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے خانسہ حسین کے گھر پر چھاپہ مارا اور اُسے حراست میں لے لیا۔ پولیس نے اس کے گھر سے برآمد ہونے والے پرندوں اور دیگر جانوروں کو محکمہ وائلڈ لائف اور متعلقہ اداروں کے حوالے کر دیا۔
پولیس کے مطابق گرفتار خاتون ذہنی مریضہ معلوم ہوتی ہے جسے ابتدائی کارروائی کے بعد ایک ذہنی امراض کے ادارے منتقل کر دیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق خاتون مبینہ طور پر خرگوشوں اور بلیوں سمیت کئی جانوروں کو اذیت دے کر قتل کر چکی ہے۔
خانسہ حسین نہ صرف جانوروں کے قتل کی تصاویر و ویڈیوز شیئر کرتی تھی بلکہ سوشل میڈیا پر لوگوں کو جانور خریدنے کی ترغیب بھی دیتی تھی اور ساتھ ہی خود انہیں اذیت دینے کے مناظر دکھاتی تھی۔
سوشل میڈیا بالخصوص انسٹاگرام پر ہزاروں صارفین نے خاتون کی گرفتاری کا مطالبہ کیا اور بعض نے پولیس کی جانب سے اسے ذہنی مریضہ قرار دینے پر اعتراض بھی کیا۔
کئی صارفین نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر وہ واقعی ذہنی مریضہ ہے تو اُسے جانوروں سے مکمل طور پر دور رکھا جانا چاہیے اور کسی ایسے ادارے میں داخل کیا جانا چاہیے جہاں وہ دوسروں کو نقصان نہ پہنچا سکے ۔
بعض صارفین نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ محض ذہنی بیماری کا دعویٰ اس ظلم کی پردہ پوشی کا بہانہ نہیں بننا چاہیے اور اس عمل پر سخت ترین قانونی کارروائی ہونی چاہیے تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








