دن ڈھلتے ہی رقص و سرور کی محفلیں! جانتے ہیں لاہور میں کہاں کہاں شرمناک پارٹیاں عام ہیں؟ہوش اڑانے والی ویڈیو

تازہ ترین

تازہ ترین

lahore’s nightlife and rising drug culture exposed
ONLINE

لاہور: پاکستان کے معروف موٹیویشنل اسپیکر، ایف ایم آر جے اور ریڈیو کے جنرل منیجر محسن نواز نے لاہور سمیت ملک کے بڑے شہروں میں رات کے وقت ہونے والی پارٹیوں اور ان میں بڑھتے ہوئے منشیات کے استعمال سے متعلق چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔

محسن نواز، جو دو سال کی عمر میں پولیو کا شکار ہوئے اور 13 سال کی عمر میں بینائی سے محروم ہو گئے، نے اپنی معذوری کے باوجود زندگی کے خلاف ہمت اور حوصلے کی ایک مثال قائم کی ہے۔ وہ یوٹیوب پر بھی اپنے فالوورز کے ذریعے مثبت پیغام عام کر رہے ہیں۔

محسن نواز نے ولنگ ویز پاکستان کے پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ لاہور میں بی آر بی، بیدیاں روڈ اور برکی روڈ جیسے علاقوں میں فارم ہاؤسز پر رات بھر چلنے والی ڈانس پارٹیاں معمول بن چکی ہیں، جہاں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں تیز موسیقی کے ساتھ پوری رات رقص میں مصروف رہتے ہیں۔

ان کے مطابق پہلے یہ سرگرمیاں گیسٹ ہاؤسز میں ہوا کرتی تھیں مگر اب فارم ہاؤسز نے ان کی جگہ لے لی ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ ان پارٹیوں میں ڈانسنگ یا ایکسٹسی نامی گولیاں عام ہو چکی ہیں، جو جسم میں توانائی بڑھانے اور بھوک کو کم کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔

پہلے یہ گولیاں بیرونِ ملک سے منگوائی جاتی تھیں مگر اب ان کی تیاری پاکستان میں ہی ہونے لگی ہے۔ ان کی قیمت 700 روپے سے 5 ہزار روپے تک ہوتی ہے۔

محسن نواز نے کہا کہ ان پارٹیوں کے ٹکٹ عموماً 15 سے 20 ہزار روپے میں فروخت کیے جاتے ہیں، اور ان میں شرکت کرنے والی خواتین مختلف طبقات سے تعلق رکھتی ہیں، جن میں ہاسٹل کی لڑکیاں، پیشہ ور خواتین اور وہ خواتین شامل ہوتی ہیں جو سنگل مردوں کی ساتھی بن کر آتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کی سرگرمیاں نہ صرف معاشرتی بگاڑ کو جنم دے رہی ہیں بلکہ ان سے سنگین جرائم میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جیسا کہ حال ہی میں لاہور میں ہونے والی ایک نائٹ پارٹی میں نوجوان احمد جاوید کے قتل کا واقعہ پیش آیا۔

محسن نواز نے کہا کہ ان حقائق کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں، یہ ہمارے معاشرے کے لیے ایک خطرناک الارم ہے، جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

Related Posts