اسلام آباد: انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک اپنے موجودہ عہدے پر خدمات انجام دیتے رہیں گے۔
مصدقہ ذرائع کے مطابق 55 سالہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک جو اس وقت ملک کے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر (قومی سلامتی کے مشیر) بھی ہیں، ستمبر 2024 میں آئی ایس آئی کے سربراہ مقرر کیے گئے تھے۔ انہوں نے لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کی جگہ یہ عہدہ سنبھالا تھا۔
لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک کو پاک فوج کے بہترین اور پیشہ ور افسران میں شمار کیا جاتا ہے۔ مئی 2025 میں انہیں قومی سلامتی کے مشیر کا اضافی چارج دیا گیا تھا۔
کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک فوری طور پر قومی سلامتی کے مشیر کے طور پر بھی فرائض انجام دیں گے۔
یہ تقرری اُس وقت عمل میں آئی جب پہلگام حملے کے بعد بھارت کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا۔
آئی ایس آئی کے سربراہ بننے سے قبل لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک جی ایچ کیو راولپنڈی میں ایڈجیوٹنٹ جنرل کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔
اکتوبر 2021 میں، اس وقت کے میجر جنرل عاصم ملک کو لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر ایڈجیوٹنٹ جنرل مقرر کیا گیا تھا۔
عاصم ملک بلوچستان کی ایک انفنٹری ڈویژن میں خدمات انجام دے چکے ہیں اور وزیرستان میں انفنٹری بریگیڈ کی کمانڈ بھی کر چکے ہیں۔
مزید یہ کہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں چیف انسٹرکٹر اور کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ میں انسٹرکٹر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔
وہ امریکہ کے معروف ادارے فورٹ لیون ورتھ اور برطانیہ کے رائل کالج آف ڈیفنس اسٹڈیز لندن سے بھی فارغ التحصیل ہیں۔
خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں ان کی قیادت اور تجربے کو ملکی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے اہم معاملات میں نہایت مؤثر قرار دیا جا رہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








