پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران کھاد کی قیمتوں میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے، حالانکہ عالمی منڈی میں اسی مدت کے دوران کھاد کی قیمتیں مسلسل بڑھتی رہیں۔
وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے سینیٹ میں جمع کرائے گئے ایک تحریری جواب میں بتایا گیا کہ یوریا اور ڈی اے پی (ڈائی امونیم فاسفیٹ) کھادیں ملکی کھپت کا تقریباً 85 فیصد حصہ ہیں، اور جولائی 2024ء سے اگست 2025ء تک ان دونوں کی قیمتوں میں مجموعی طور پر کمی کا رجحان رہا۔
دستاویز کے مطابق جولائی 2025ء میں یوریا کے 50 کلو بیگ کی قیمت 4,365 روپے تک گر گئی جو ایک سال پہلے 4,705 روپے تھی، یعنی تقریباً 7.2 فیصد کمی۔ دوسری جانب عالمی منڈی میں اسی عرصے کے دوران یوریا کی قیمت میں 32.6 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا۔ ڈی اے پی کے معاملے میں بھی ملکی قیمت میں 17.1 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جبکہ عالمی سطح پر اضافہ 34.7 فیصد تک پہنچ گیا۔
سندھ حکومت نے 100 کلو آٹے کی بوری کی قیمت 9 ہزار 500 روپے مقرر کر دی
وزارت کی دستاویز میں ماہ بہ ماہ قیمتوں کا تفصیلی موازنہ بھی شامل ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں یوریا اور ڈی اے پی کی قیمتیں نسبتاً مستحکم رہیں، جبکہ عالمی منڈی میں ان کی قیمتوں میں بار بار اتار چڑھاؤ اور مجموعی اضافہ ہوا۔
وزارت کے ایک سینئر افسر نے ویلتھ پاکستان کو بتایا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ ملک میں کھاد مہنگی ہوئی ہے جبکہ دنیا بھر میں سستی ہوئی۔ ان کے مطابق حکومت نے صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر کسانوں کے لیے کئی بروقت اقدامات کیے، جن میں کھاد ریویو کمیٹی کے باقاعدہ اجلاس، بفر اسٹاکس کی تشکیل، اور یوریا پلانٹس کو بلا تعطل گیس کی فراہمی شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان پالیسی اقدامات کے نتیجے میں کھاد کی پیداوار میں اضافہ ہوا، ملک میں طلب پوری ہوئی، اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے میں مدد ملی۔
ماہرانہ جائزے کے مطابق پاکستان میں مقامی سطح پر بروقت حکومتی اقدامات نے کسانوں کو عالمی منڈی کے دباؤ سے محفوظ رکھا۔ یوں جب عالمی قیمتیں اوپر جا رہی تھیں، پاکستانی کسان نسبتاً کم قیمت پر کھاد حاصل کر کے اپنی فصلوں کی پیداوار میں تسلسل برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔
مختصراً، حکومتی حکمتِ عملی اور منڈی کی نگرانی نے ثابت کیا کہ مؤثر پالیسی سازی کے ذریعے مقامی زرعی شعبے کو عالمی معاشی جھٹکوں سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








