تاشقند : ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کہا ہے کہ پاک افغان بارڈر پر ہمارے جوانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے ، افغانستان سے دراندازی جاری ہے لیکن الزام ہم پر لگایا جارہا ہے ، اگر الزام تراشی کا سلسلہ جاری رہا تو حالات بہتر نہیں ہوسکتے ہیں۔
تاشقند میں وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں جانے والے وفد نے افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات میں ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا حقائق اشرف غنی کے سامنے رکھتے ہوئے کہنا تھا کہ اس وقت دہشتگردی کے سارے مراکز افغانستان میں موجود ہیں ، اگر افغان حکام کی جانب سے دراندازی کا سلسلہ نہ رکا تو حالات بہتر نہیں ہو سکتے ہیں۔
ملاقات کے بعد ڈٖی جی آئی ایس آئی نے غیررسمی گفتگو میں بتایا کہ پاکستان نےاپنا موقف واضح طور پرپیش کیا ، علاقائی امن، علاقائی سیکیورٹی اور علاقائی تجارت کے لئے پاکستان خطے میں بڑے مقصد کے لئے کام کررہا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے کہا یہ کانفرنس ان الزامات سے بہت بلند ہیں جو افغانستان کی جانب سے پاکستان پر لگائے جارہے ہیں۔ انہوں نے امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بہت افغانستان کے تمام اسٹیک ہولڈر ایک میز پر ہوں گے اور حالات بہتر ہو جائیں گے۔
یاد رہے وزیراعظم عمران خانے نے افغان صدر اشرف غنی اور نائب صدر اٖفغانستان کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان سنجیدگی سے افغانستان میں امن کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایف بی آر نے ملک بھر میں ‘ پوائنٹ آف سیلز ‘ نظام متعارف کرادیا
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








