کراچی: نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فورم وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدراورسابق صوبائی وزیرمیاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ اقتصادی ترقی کے مقابلہ میں معیشت کودرپیش چیلنجز میں اضافہ کی رفتار تیز ہے جس پرکاروباری برادری کو تشویش ہے۔
انہوں نے کہا کہ بڑی صنعتوں نے کچھ عرصہ تک بہتر کارکردگی دکھائی مگراب دوبارہ ان میں کمزوری کے آثار نمایاں ہورہے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنوری کے مقابلہ میں مئی تک ایل ایس ایم میں بیس فیصد کمی آ چکی ہے۔
بڑی صنعتوں کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق یہ کمی 33 فیصد ہے۔ حکومت کی جانب سے بڑی صنعتوں کو دئیے جانے والی فوائد دسمبر میں ختم ہو گئے جس کے بعد جنوری سے اس شعبہ کا زوال شروع ہو گیا ہے اور یہ وہیں پہنچ گیا ہے جہاں گزشتہ سال ستمبر میں تھا۔
میاں زاہد حسین نے کہا کہ اگرآٹو سیکٹر کو دی جانے والی مراعات نے کام کیا تو بڑی صنعتوں کے مجموعی اعدادوشمار کچھ عرصہ تک بہتر رہیں گے کیونکہ ایل ایس ایم میں آٹوسیکٹر کا حصہ خاطر خواہ ہے۔
2019میں کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ 8.56 ارب ڈالرتھا جو2020 میں 245 ملین ڈالر سرپلس ہوگیا مگر 2021 کے پہلے تین ماہ میں یہ خسارہ 274 ملین ڈالر، اپریل میں 188 ملین ڈالراورمئی میں 632 ملین ڈالر ہو گیا۔
یعنی امسال مئی تک کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ایک ارب ڈالر سے بڑھ گیا ہے۔ میاں زاہد حسین نے مذید کہا کہ جولائی سے مئی 2021 تک تجارتی خسارے میں چھبیس فیصد اضافہ ہو چکا ہے جس میں اضافہ متوقع ہے اور یہ خسارہ نئے مالی سال میں 40 سے 45 ارب ڈالر تک ہو سکتا ہے۔
صنعتی شعبہ کو مراعات ملنے سے وقتی طور پر اسکی کارکردگی بہتر ہوئی ہے مگر اس سے مسئلہ حل نہیں ہوا کیونکہ آٹے، چینی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے سے عوام کی بڑی تعداد اشیائے ضروریہ کے علاوہ کچھ خریدنے کے قابل ہی نہیں رہی ہے۔
مزید پڑھیں: اوگرا نوٹیفکیشن کے بغیر 24گھنٹوں میں ایل پی جی کی قیمت میں دوسری بار اضافہ
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








