چین میں کی جانے والی ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ جو نوجوان “لائینگ فلیٹ” طرزِ زندگی اختیار کرتے ہیں، وہ عمومی طور پر اپنی زندگی سے کم ہی مطمئن یا خوش ہوتے ہیں اور بے چینی کا شکار رہتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق لائینگ فلیٹ رویہ ایک غیر فعال اور دستبردارانہ رویہ ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسانی اطمینان کو کم کرنے لگتا ہے۔ تحقیقی مقالے کے نتائج سائنسی جریدے بی ہیوریل سائنسز میں شائع ہوئے ہیں۔
محققین کا ماننا ہے کہ “لِیئنگ فلیٹ” جسے چینی زبان میں “تانگ پِنگ” کہا جاتا ہے، دراصل ایک سماجی رجحان ہے جو چین میں شدید معاشی اور سماجی دباؤ کے خلاف خاموش مزاحمت کے طور پر ابھرا تاہم یہ ایک منفی رویہ سمجھا جانا چاہئے۔
دراصل لائینگ فلیٹ سے مراد وہ طرزِ فکر ہے جس میں بعض نوجوان ترقی، دولت اور سماجی کامیابی کی دوڑ سے الگ ہو کر محض بنیادی ضروریات پوری کرنے تک خود کو محدود کر لیتے ہیں، تاہم انسانی شعور اس رویے کو قبول کرنے سے انکاری ہے۔
اس تصور کے تحت افراد ترقی، جائیداد کی ملکیت یا شادی جیسے روایتی اہداف کو ہر قیمت پر حاصل کرنے کے بجائے کم سے کم تقاضوں کے ساتھ زندگی گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ لفظی طور پر “تانگ پِنگ” کا مطلب ہے پیٹھ کے بل لیٹ جانا، پورا جسم ڈھیلا چھوڑ دینا اور کسی ردِعمل یا حرکت سے گریز کرنا اور یہ رویہ بھی ایسی ہی ذہنی حالت کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ رجحان طویل اوقاتِ کار، رہائشی اخراجات میں بے پناہ اضافہ، معاشی عدم مساوات اور سماجی نقل و حرکت کے محدود مواقع کے ردِعمل میں سامنے آیا۔ اسے خاص طور پر “996” ورک کلچر پر تنقید سے جوڑا جاتا ہے، جس میں صبح 9 بجے سے رات 9 بجے تک، ہفتے میں چھ دن کام کیا جاتا ہے۔
“تانگ پِنگ” کے حامی افراد شدید ذہنی تھکن، مایوسی اور سخت محنت کے باوجود خاطر خواہ نتائج نہ ملنے کے احساس کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ کوئی منظم یا اجتماعی احتجاجی تحریک نہیں بلکہ ایک انفرادی اور خاموش طرزِ موافقت سمجھا جاتا ہے۔
چینی حکام اور سرکاری میڈیا نے اس رجحان کو شکست خوردہ اور سماجی طور پر غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے، جبکہ اس موضوع پر ہونے والی بعض آن لائن بحثوں کو سنسر بھی کیا گیا، جس سے نوجوانوں کی لاتعلقی کے معاملے پر حساسیت ظاہر ہوتی ہے۔
وسیع تناظر میں یہ رجحان بلند دباؤ والی معیشتوں میں پائی جانے والی نئی نسل کی ذہنی تھکن کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








