لاکھوں پاؤنڈز اور ریال کی چوری کا مقدمہ جھوٹا نکلا، ملازمہ 2000روپے برآمدگی پر بری

تازہ ترین

تازہ ترین

ملازمہ
(فوٹو: انادولو ایجنسی)

اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے غیرملکی کرنسی کی بھاری رقم چوری کرنے کے مقدمے میں گھریلو ملازمہ کو ثبوتوں کی عدم دستیابی کی بنیاد پر بری کر دیا۔ ملازمہ پر پانچ لاکھ سعودی ریال اور پانچ لاکھ پاؤنڈ سمیت بڑی رقم چوری کا الزام تھا، تاہم استغاثہ اپنا دعویٰ ثابت نہ کرسکا کیونکہ ملزمہ سے صرف 2000روپے برآمد ہوئے تھے۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق یہ مقدمہ یکم فروری 2024 کو اسلام آباد کے تھانہ لوہی بھیر میں درج کیا گیا تھا۔ ایف آئی آر کے مطابق مدعی خاتون ساجدہ زاہد نے الزام عائد کیا تھا کہ ان کی گھریلو ملازمہ نے پی ڈبلیو ڈی سوسائٹی میں واقع ان کے گھر سے چار لاکھ پاکستانی روپے کے علاوہ پانچ لاکھ سعودی ریال اور پانچ لاکھ پاؤنڈ غائب کر دیے۔ مدعیہ نے پولیس کو بتایا تھا کہ پڑوسیوں نے انہیں اطلاع دی کہ ان کی غیرموجودگی میں ملازمہ گھر میں داخل ہوئی، جس کے بعد سامان کی جانچ پڑتال پر رقم غائب پائی گئی۔

تاہم جوڈیشل مجسٹریٹ رضوان الدین نے اپنے فیصلے میں نشاندہی کی کہ استغاثہ بارہا مواقع دیے جانے کے باوجود کوئی عینی شاہد پیش نہ کر سکا۔ مزید یہ کہ کیس کے ریکارڈ میں نہ تو وقوعے کا وقت درج تھا اور نہ ہی تاریخ واضح کی گئی۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ اگرچہ مدعیہ نے پڑوسیوں کے ذریعے اطلاع ملنے کا دعویٰ کیا، لیکن ضابطہ فوجداری کی دفعہ 161 کے تحت کسی بھی پڑوسی کا بیان ریکارڈ نہیں کیا گیا۔

عدالت نے مزید کہا کہ اتنی بڑی رقم چوری ہونے کے دعوے کے باوجود تفتیش کے دوران صرف دو ہزار روپے برآمد ہوئے، جو کہ دعوے کے مقابلے میں نہایت معمولی ہیں۔ فیصلے میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ آیا واقعی اتنی خطیر غیرملکی کرنسی گھر میں موجود تھی، کیونکہ اس حوالے سے کوئی دستاویزی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا۔ عدالت کے مطابق یہ امر بھی غیرمعمولی ہے کہ اتنی بڑی رقم گھر میں رکھ کر اس کی چابی ملازمہ کے حوالے کی جائے۔

عدالت نے سی آر پی سی کی دفعہ 294 اے کے تحت ملازمہ کو بری کرتے ہوئے قرار دیا کہ فوجداری نظام انصاف میں شک کا فائدہ ہمیشہ ملزم کو دیا جاتا ہے۔ ملزمہ اس سے قبل ضمانت پر تھیں۔ دوسری جانب ان کے وکیل حبیب حنظلہ نے مؤقف اختیار کیا کہ مقدمہ بے بنیاد تھا اور پولیس نے تحقیقات کے دوران مدعیہ کے مالی وسائل کی تصدیق تک نہیں کی۔ ان کے مطابق ملازمہ کی تنخواہ بھی بقایا تھی اور وہ اپنی بیٹی کے علاج کے لیے رقم کی ضرورت کے باعث مشکلات کا شکار تھیں، جبکہ ملازمہ کو گرفتاری کے وقت پہلی بار اس سنگین الزام کا علم ہوا۔

Related Posts