اسٹیٹ بینک کا بڑا اقدام، خصوصی افراد سمیت کروڑوں پاکستانیوں کو مالی خواندگی دینے کا اعلان

تازہ ترین

تازہ ترین

اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فائل فوٹو

اسٹیٹ بینک آف پاکستان، بینکنگ سروسز کارپوریشن (ایس بی پی بی ایس سی) اور ٹیچ دی ورلڈ فاؤنڈیشن (ٹی ڈبلیو ایف) نے پاکستان میں مالی خواندگی بڑھانے اور شمولیتی مالی نظام کو فروغ دینے کے لیے مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے ہیں۔

یہ شراکت داری بالخصوص خصوصی افراد اور وہ طبقات جو مالی خدمات تک محدود رسائی رکھتے ہیں، ان کی شمولیت کو یقینی بنانے پر مرکوز ہے۔

دستخط کی تقریب ایس بی پی بی ایس سی کراچی میں منعقد ہوئی، جس میں منیجنگ ڈائریکٹر ایس بی پی بی ایس سی معراج محمود اور ٹی ڈبلیو ایف کے صدر ارشد انیس نے شرکت کی۔ یہ اشتراک دونوں اداروں کے اس مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ معاشرے کے مالی طور پر پسماندہ طبقات کو مالی نظام میں شامل کرنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کریں گے۔

اس موقع پر ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک سلیم اللہ نے بھی شرکت کی اور اس شراکت داری کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک ڈیجیٹل مالی خواندگی کے فروغ اور تعلیم سے محروم بچوں تک رسائی کو اپنی ترجیحات میں شامل کیے ہوئے ہے۔ انہوں نے اسٹیٹ بینک کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ہدفی اقدامات اور حکمتِ عملی پر مبنی اشتراکات کے ذریعے معاشرے کے تمام طبقات کو مالی خدمات تک رسائی دی جائے گی۔

منیجنگ ڈائریکٹر ایس بی پی بی ایس سی، معراج محمود نے اپنے خطاب میں نوجوانوں کو مالی نظام میں فعال شمولیت کی ترغیب دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2028ء کے اختتام تک اسٹیٹ بینک کا ہدف ایک کروڑ افراد کو مالی خواندگی سے روشناس کرانا ہے، جب کہ ایس بی پی بی ایس سی نے مالی سال 2026ء کے دوران 12 لاکھ افراد تک پہنچنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اب تک 34 لاکھ افراد تک رسائی حاصل کی جا چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹی ڈبلیو ایف کے ساتھ اشتراک، اسٹیٹ بینک کے اس وژن کی تکمیل کی سمت ایک اہم قدم ہے، جس کا مقصد خصوصی افراد سمیت معاشرے کے ہر طبقے کے لیے مالی خدمات کو قابلِ رسائی بنانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مالی خواندگی کے فروغ اور شمولیتی نظام کے قیام کے لیے ساختی رکاوٹوں کا خاتمہ اور جدید اقدامات وقت کی ضرورت ہیں۔

ٹی ڈبلیو ایف کے صدر ارشد انیس نے کہا کہ مالی شمولیت پاکستان کے شہریوں کی معاشی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا مؤثر ذریعہ ہے۔ ان کے بقول ایس بی پی بی ایس سی کے ساتھ یہ شراکت داری پاکستان میں مالی طور پر نظر انداز کیے گئے طبقات کے لیے نئے امکانات پیدا کرے گی، پائیداری کو فروغ دے گی اور مجموعی طور پر ملک کی معاشی ترقی میں کردار ادا کرے گی۔

Related Posts