طالبان نے “غیراخلاقی تعلقات”کے الزام میں 2 خواتین اور دو مردوں کو اسٹیڈیم میں سرعام کوڑے مارے

تازہ ترین

تازہ ترین

غور اسٹیڈیم افغانستان، فوٹو افغان میڈیا

طالبان نے دو خواتین اور تین مردوں کو صوبہ غور اور بلخ میں “غیراخلاقی تعلقات” اور “شراب کی منتقلی” کے الزامات پر اسٹیڈیم میں سر عام کوڑے مارے گئے ہیں۔
بیان کے مطابق ان تمام افراد کو عوامی اجتماع میں کوڑے مارے گئے۔ طالبان کی سپریم کورٹ نے بدھ کو جاری ایک اعلامیے میں کہا کہ غور کی اپیل کورٹ نے دو خواتین سمیت چار افراد کو “غیراخلاقی تعلقات” کے الزام میں صوبے کے اسٹیڈیم میں مقامی حکام، سیکیورٹی اہلکاروں اور عام عوام کی موجودگی میں کوڑے مارے۔

سونے کی کانوں پر قبضے کی جنگ، طالبان کمانڈروں کے درمیان خونریز تصادم جاری

مقامی عدالت نے ایک الگ بیان میں بتایا کہ بلخ صوبے میں بھی ایک شخص کو “شراب کی ترسیل” کے الزام میں عوامی طور پر کوڑے مارے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ بین الاقوامی اداروں کی جانب سے جسمانی سزاؤں اور قیدیوں پر تشدد کی مخالفت کے باوجود طالبان عوام کے سامنے ایسے افراد کو کوڑے مارنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ طالبان انتظامیہ اس اقدام کو “اسلامی شریعت کا حکم” قرار دیتی ہے۔

Related Posts