لڑکیوں کی تعلیم کی عالمی علمبردار ملالہ یوسفزئی نے 28 بہاریں دیکھ لیں، سالگرہ کہاں منائی؟

تازہ ترین

تازہ ترین

Malala celebrates 28th birthday
FILE PHOTO

نوبل انعام یافتہ اور لڑکیوں کی تعلیم کی عالمی علمبردار ملالہ یوسفزئی نے اپنی 28ویں سالگرہ تنزانیہ میں منائی، جہاں وہ تعلیم کے حق کے لیے سرگرم لڑکیوں کے ساتھ وقت گزار رہی ہیں۔

یہ ملالہ کا تنزانیہ کاپہلا باضابطہ دورہ ہے جس دوران انہوں نے مقامی تعلیمی کارکنان اور ملالہ فنڈ کے شراکت داروں سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد تنزانیہ میں لڑکیوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی میں حاصل ہونے والی کامیابیوں اور موجودہ چیلنجز کو قریب سے سمجھنا تھا۔

یہ دورہ ملالہ فنڈ کے اس مسلسل عزم کی علامت ہے جو وہ اس خطے میں لڑکیوں کی ثانوی تعلیم کے فروغ کے لیے رکھتا ہے۔

اپنے قیام کے دوران ملالہ نے مقامی تعلیمی رہنماؤں سے بامعنی بات چیت کی، ذاتی تجربات اور تعلیمی ترجیحات پر بات کی اور تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

انسٹاگرام پر جاری ایک جذباتی پیغام میں ملالہ نے اس دورے سے حاصل ہونے والے جوش و ولولے اور خوشی کا اظہار کیا۔

 

انہوں نے پاکستان میں اپنے بچپن کے ایام یاد کرتے ہوئے لکھا کہ کس طرح کلاس روم ان کے لیے ایک پناہ گاہ تھا اور تعلیم سے محرومی نے کس طرح انہیں اور ان کی سہیلیوں کو آواز بلند کرنے پر مجبور کیا۔

ملالہ نے لکھا کہ جب میں پاکستان میں بڑی ہو رہی تھی، تو کلاس روم میری سب سے پسندیدہ جگہ تھی۔ تعلیم نے مجھے امید دی۔ جب یہ حق چھین لیا گیا تو میں اور میری سہیلیوں نے اسے واپس لینے کے لیے آواز بلند کی۔

آج جب میں تنزانیہ کی لڑکیوں کے ساتھ ایک کلاس روم میں تھی، تو مجھے وہ دن یاد آ گئے، اور یہ احساس مزید گہرا ہو گیا کہ یہ جدوجہد آج بھی کتنی ضروری ہے۔

اپنے اس دورے کے دوران ملالہ نے ایک ایسے اسکول کا بھی دورہ کیا جو کم عمر ماؤں کو دوبارہ تعلیم کے دائرے میں لانے کے لیے سرگرم ہے۔ یہ وہ پروگرام ہے جس کی حمایت ملالہ فنڈ 2022 سے کر رہا ہے۔

ملالہ نے تنزانیہ میں لڑکیوں کے لیے تشویشناک اعداد و شمار کی بھی نشاندہی کی، وہاں تقریباً ہر پانچ میں سے دو لڑکیاں 18 سال کی عمر سے پہلے شادی کر لیتی ہیں، اور ہر چار میں سے ایک 19 سال سے پہلے ماں بن جاتی ہے۔

یہ تعلیمی پروگرام نوجوان ماؤں کو اسکول واپس لانے کے لیے رہنمائی، ذہنی صحت کی سہولیات، تعلیمی سامان، اور کمیونٹی کی شمولیت پر مشتمل مکمل مدد فراہم کرتا ہے، اور اب تک 400 سے زائد لڑکیوں کو دوبارہ اسکول بھیجا جا چکا ہے۔

ملالہ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ اسکول کا دورہ کرنا، طلبہ اور اساتذہ سے ملنا، اور اُن کمیونٹی ممبران سے سیکھنا جو لڑکیوں کے لیے تعلیم کو ممکن بنا رہے ہیں، میرے لیے ایک اعزاز تھا۔

Related Posts