نیو یارک: امن کے لیے نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی نے دنیا بھر سے اپیل کی کہ طالبان کے قبضے کے بعد افغان خواتین کے حقوق کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔
24 سالہ ملالہ یوسف زئی نے کہا کہ وہ فکر مند ہیں کہ طالبان 20 سال قبل جب اقتدار میں تھے وہی کام کریں جو وہ اس وقت کرتے تھے ، خواتین کی تعلیم کے حوالے سے سخت گیر فیصلے کریں گے، افغان خواتین کے حقوق سلب کیے جائیں گے۔
ملالہ یوسف زئی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم سے متعلق ایک فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ “ہم خواتین کے حقوق کے تحفظ اور انسانی وقار کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔”
ویڈیو لنک کے ذریعے پینل میں شامل ہونے والے یوسف زئی کا کہنا تھا کہ “اب وقت آگیا ہے کہ ہم اس عزم پر قائم رہیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ افغان خواتین کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔ اور ان اہم حقوق میں سے ایک تعلیم ان کا حق ہے۔”
کئی عالمی رہنماؤں نے اس ہفتے اقوام متحدہ کے سالانہ اجتماع میں افغان خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے کا وعدہ کیا تھا، تاہم ان تقاریر میں لیکن یہ واضح نہیں تھا کہ وہ ایسا کیسے کریں گے۔
افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے بعد طالبان نے دوبارہ 20 سال بعد اقتدار پر قبضہ کرلیا ہے جس کے تناظر میں افغانستان میں خواتین کے حقوق کے بارے میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔
دوسری جانب طالبان نے اعلان کیا تھا کہ “وہ اپنے 1996-2001 کے حکمرانی کے بعد سے بدل چکے ہیں جب انہوں نے عورتوں کو مرد رشتہ دار کے بغیر گھر سے نکلنے سے بھی روک دیا تھا۔”
طالبان نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ وہ بڑی عمر کے لڑکوں کے لیے ہائی اسکول کھولیں گے مگر لڑکیوں کو اسکول آنے کی اجازت نہیں ہوگی ، جس بعد طالبان کے بارے میں شکوک و شبہات جنم لے لیا ہے کہ وہ خواتین کے حقوق کا کتنا احترام کریں گے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ طالبان کی بین الاقوامی پہچان کی خواہش کا واحد حل ملک کے اندر جامع حکومت کی تشکیل اور خواتین کے حقوق کی پاسداری میں پنہاں ہے۔
اقوام متحدہ میں افغان خواتین اور لڑکیوں کی حالت زار پر بات کرنے والوں میں یورپی یونین کونسل کے صدر چارلس مشیل اور ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز بھی شامل تھے۔
مشیل نے افغانستان میں پچھلے 20 سالوں کے دوران ہونے والے فوائد کو محفوظ بنانے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ “کوئی بھی معاشرہ جو اپنی آبادی کا صرف آدھا حصہ آگے بڑھنے دیتا ہے ، اور باقی نصف کو جان بوجھ کر پیچھے رکھتا ہے وہ پائیدار ترقی نہیں کرسکتا ہے۔”
یہ بھی پڑھیں : ملک بھر میں کورونا سے متاثرہ مزید 42 مریض انتقال کر گئے، این سی او سی
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








